A Journey in Jammu Kashmir & Allied areas (JKA)............................ from Subject to Citizen .........autocracy to democracy .........Dogra Raaj to Awaami Raaj .........1947 CE to........................... #WhiteFlags #Neutrality #WaterManagement #MirpurtoLondonviaCentralAsia
Visitors
Friday, 23 January 2026
Daily Diary (DD) - Day 23 of 2026
Thursday, 22 January 2026
Daily Diary (DD) - Day 22 of 2026
0932hrs:
Reverse gear mode today despite getting to bed by 0830hrs and getting to sleep by 2200hrs or so. I didn't get up till about 0700hrs, yet again 4 hours away from my target start.
I need to fight much harder.
....
You all need to understand this in the context of generating social cohesion to re-unify and bring intellectual prosperity to Jammu Kashmir & Allied (areas).
There are compelling geographic and ecological reasons for this.
Being true to the land and nature of where you were born and where your family may have lived, loved, suffered & prospered for centuries is a genuine human sentiment, capable and justified in creating that social cohesion (through trust building in the markets) which will deliver that intellectual prosperity.
What goes around comes around.
Our people need to come out of the capitalist-communist dichotomy and other mistargeted global aspirations.
JKA PUBLIC AGENCY Note: #E092222012026
....
Wednesday, 21 January 2026
Daily Diary (DD) - Day 21 of 2026
0418hrs:
Something has clicked today, despite an extremely lax day yesterday whereby I missed both my morning walk and gym routine. Perhaps its the remorse setting in, given the absolutely critical stage we - as a nation have spent the best part of a century transforming from an autocracy to a well informed democracy.
....
Sonam Wangchuk deserves to be discussed every day. I learn that he keeps himself busy in prison too:
Nature has already written the best manuals. We just need the humility to study and apply them. https://t.co/Dm2lGcoitr
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) January 21, 2026
I had to retweet and respond with the following salvo:
#SonamWangchuk is the most n tune with nature & has made max. use of his faculties 2 remain true 2 nature's rhythm, within the whole territory of #JKA - as it stood n 1947 - subject 2 the #PeoplesReference . He would understand why we vouch 4 his credentials 2 manage the #3rdPole https://t.co/bbuwOs6lcg
— Tanveer Ahmed (@sahaafi) January 21, 2026
....
Tuesday, 20 January 2026
Daily Diary (DD) - Day 20 of 2026
Monday, 19 January 2026
Daily Diary (DD) - Day 19 of 2026
Sunday, 18 January 2026
Daily Diary (DD) - Day 18 of 2026
Saturday, 17 January 2026
Daily Diary (DD) - Day 17 of 2026
1228hrs:
A guest came last night, due to which I couldn't sleep till close to midnight. I got up at 0800hrs. I will keep plugging away at my ideal target.
....
Friday, 16 January 2026
Daily Diary (DD) - Day 16 of 2026
![]() |
| The banyan trees where the village converges - this photo was taken on the morning after the January 2026 meeting viz. 04/01/2026 |
![]() |
| Photo courtesy his webpage at: Suhail Warraich |
ڈڈیال آزادکشمیر کے ایک مثالی گاؤں کے متعلق پاکستان کے نامور کالم و تجزیہ نگار جناب سہیل وڑائچ کی خوبصورت تحریر
آپ بھی پڑھئیے ۔۔۔۔
*پچوانہ سے پاکستان تک*
*سہیل وڑائچ*
30 اگست
2024
پچوانہ آزاد کشمیر کے ایک چھوٹے سے گاؤں کا نام ہے جو ڈڈیال کے قریب ہے۔
وہاں کے لوگوں نے مکالمہ اور معافی کے دو زریں اصولوں کی روشنی میں ایک مثالی معاشرہ قائم کر رکھا ہے۔
گاؤں میں مختلف مذہبی اور سیاسی مکاتب فکر کے لوگ آباد ہیں جو انسان کی عظمت کے نام پر آپس میں مکالمہ کرتے ہیں، اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگتے ہیں اور کسی دوسرے سے غلطی ہو جائے تو اسکی معافی قبول کر لیتے ہیں۔
اس اصول کی وجہ سے نہ وہاں کوئی مقدمہ درج ہوتا ہے اور نہ مار کٹائی تک کبھی نوبت پہنچتی ہے۔
یہ ہے تو ایک چھوٹا سا گاؤں جو پاکستان کی طرح لفظ پ سے شروع ہوتا ہے اورانہوں نے انسانی معاشرے میں امن کا حل دو میموں یعنی مکالمے اور معافی میں تلاش کر لیا ہے۔
کیا پاکستان پچوانہ کی مثال پر عمل نہیں کر سکتا؟
ہم بھی مکالمے اور معافی کو اپنالیں تو سیاسی اور سماجی بحران کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔
مسلم روایت کی تین شاندار مثالیں صلح حدیبیہ، میثاق مدینہ اور فتح مکہ ہیں۔
ممتاز دانشور اشفاق احمد نے میرے ساتھ ایک انٹرویو میں صلح حدیبیہ کے بارے میں کہا کہ بظاہر یہ صلح مسلمانوں کے لئے سودمند نہیں بلکہ نقصان دہ لگتی تھی مگر نتائج کے اعتبار سے اس صلح کا بہت فائدہ ہوا۔
میثاق مدینہ یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان مکالمے اور برداشت کی بنیاد پر اکٹھے رہنے کی دستاویز تھی ۔
اس میں بھی جیو اور جینے دو کے اصول کو مدنظر رکھا گیا۔
فتح مکہ دنیا کی سب سے بڑی معافی تھی، جس میں قاتلوں اور سازشیوں کو پوچھا تک نہ گیا، حتیٰ کہ حضرت حمزہؓ کا کلیجہ چبانے والی ہندہ بھی معاف ہو گئی۔
اگر مسلمان کفار یہودیوں اور منکرین کے ساتھ صلح صفائی اور معافی کے معاہدے کرتے رہے ہیں تو کیا اہل پاکستان ملک کی خاطر ایک دوسرے کو معاف نہیں کر سکتے؟
مکالمے کے ذریعے اپنے مسائل کا حل نہیں نکال سکتے؟
میرا خیال ہے کہ مسلم روشن روایات کو سامنے رکھیں تو مکالمے اور معافی کی بنیاد پر آگے بڑھا جاسکتا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ معاہدہ کسی فریق کو صلح حدیبیہ کی طرح بظاہر سودمند نہ لگے مگر آنیوالے دنوں میں اس کا فائدہ اس فریق کو زیادہ ہو گا جو دوسروں کو رعایت دیگا۔
ماضی کے تجربات تو یہی بتاتے ہیں انہی تجربات سے سیکھ کر مستقبل کی بنیاد رکھنی چاہئے ۔
میں ان دنوں یورپ میں ہوں : ترقی یافتہ معاشروں میں جنگ، نفرت اور لڑائی مارکٹائی کی بجائے مکالمہ اور معافی کے اصولوں کو اپنا کر نئے راستے کھولے گئے ہیں، البتہ کوئی تشدد اور نفرت پر آمادہ ہو تو پھر ریاست ،عدالت اور شہری اس کو سزا دینے پر تل جاتے ہیں ۔
برطانیہ میں تھوڑا عرصہ پہلے نسلی فسادات کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی تو ریاست نے فوری ایکشن لیا۔
وزیر اعظم خود مساجد میں گئے اور انتہا پسند گوروںکی سخت مذمت کی۔
عدالتوں نے ہر فسادی کو سزا سنائی، حتیٰ کہ نفرت پر مبنی مواد کو ری ٹویٹ کرنے پر بھی سخت سزا دی گئی۔ ایک کمسن بھی اس زد میں آیا، اسےبھی نہ بخشا گیا، حالانکہ برطانیہ میں 18سال سے کم عمر بچوںکو سزائیں دینے کے بارے میں بہت احتیاط کی جاتی ہے۔
اختلاف پر یہاں کوئی روک ٹوک نہیں، مذہب جو بھی ہو اسے مکمل آزادی ہے، مگر تشدد اور تخریب یہاں کی ریڈلائن ہے ۔
پاکستان کو بھی دنیا سے سیکھنا چاہئے: مکالمے اور معافی کو رواج دینے کیساتھ ساتھ تشدد کو معاشرے سے خارج کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اسے ریڈلائن بنایا جائے،جلسے جلوس ہوں مگر ہجوم سیاسی ہو یا مذہبی، اگر وہ تشدد پر اتر ے تو اسے قرارواقعی سزا دینی چاہئے۔
مفاہمت اور مکالمہ ہی دائمی سیاسی اور معاشی استحکام لا سکتا ہے۔
۔۔
نوٹ ؛ پچوانہ گاؤں کے مثالی معاشرے اور ماہانہ سرگرمیوں کے متعلق مزید معلومات انکے فیس بک پیج سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
....
Daily Diary (DD) - Day 23 of 2026
0816hrs: Another 0700hrs start despite getting to bed at c. 2100hrs yesterday evening and sleeping by 2200hrs. This past 24 hour cycle has b...
-
2318hrs: Net connectivity was sporadic and almost absent throughout the day today, due to security measures to ensure the annual parade on t...
-
1415hrs: We will be using today's date to provide a documented timeline of content and communication generated with respect to the trans...


