Visitors

Sunday, 25 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 298 of 2026

1217hrs:

Day 143 and we have proved that consistency creates levels of strength and endurance not conceived of before. 

Our energies are slowly converging simultaneously between Rawalakot & London, as it is 2026 that marks the final stand between the people of Jammu Kashmir & Allied (areas) and the British designed colonial division of this State (between India & Pakistan) in 1947, strains to achieve its fait accompli of permanent division & practical disintegration of the erstwhile princely State. 

....

Saturday, 24 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 297 of 2026

1223hrs:

Day 142 and it coincides with a provisional government declaration in this territory 79 years ago (24 October 1947).

If that declaration is to be understood as a genuine reflection of those that rebelled against the autocratic Dogra regime, then it would be equally clear that those public aspirations were consequently hijacked and we have suffered since. 

Can we bring our public back to that original constitutional position? What will be discussed in public at Eidgaah, Dreak in Rawalakot today will provide more than a clue, as to whether we can convert our rights movement into a (self) responsible movement cum authority cum government. 

....

24 اکتوبر 
2026

1) 
آزاد جموں و کشمیر کی عوام کا کردار

2) 
قابضین کا کردار

3) 
برطانیہ کا کردار

4)
 باقی دنیا (نمایاں مصالحتی ادارے، طاقتور ممالک، انسانی حقوق کے ادارے اور نمایاں نشریاتی اور علمی ادارے)
.. 


1) 
آزاد جموں و کشمیر کی عوام کا کردار

جو ہم نے غیر جانبدار تحقیق سے اخذ کیا پچھلے 142 دن سے، پچھلے 4 سال سے اور مجموعی طور پر پچھلے 79 سال سے
__

کہ ہم نے خود اپنی قومی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ یعنی جو ذمہ داریاں ہم نے نبھانی تھیں وہ ہم نے مطالبات کے ذریعے - پڑوسی قابضین سے یا دنیا کی طاقتوں سے پوری کرنے کی ناکام کوشش کی۔

ہم نے اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنی آئینی اور قانونی استحقاق نہیں استعمال کیا۔

آج کے دن کی نسبت سے (24 اکتوبر 2026) جو اعلامیہ 79 سال پہلے جنجال ہل پلندری سے جاری ہوا تھا، اس کے متن اور 4 اہم نقاط پر غور نہیں کیا (اس اعلامیہ کا حوالہ جات دونوں انگریزی اور اردو میں درج ذیل ہیں)۔



ان 4 نقاط کو نظر انداز کر کے یہاں کا نظام چلایا گیا، جہاں عوام - جس نے شخصی راج کے خلاف بغاوت کی - انہی کے حقوق سلب کیے گئے۔ اور وہ آج تک سلب ہیں۔

4 
:نقاط (خلاصہ)

a)
 کہ لوگوں کی ضرورت کے پیش نظر شخصی راج سے بغاوت کی تاکہ ہم اپنے نظام کے لیے خود ذمہ دار ہوں۔

b)
 کہ جتنی مذہبی اقلیتیں ہیں، ان کو بھی حکمرانی اور نظام میں شامل کریں گے۔

c)
 کہ ہم نے ریاست جموں و کشمیر کے بیشتر حصوں پر اپنی رٹ قائم کر لی ہے اور باقی حصے بھی ہم بہت جلد شامل کر لیں گے۔

d)
 کہ ہم پڑوسی ممالک انڈیا اور پاکستان کے ساتھ دوستانہ اور غیر جانبداری کے تعلقات قائم رکھیں گے۔

ہمیں یہ بھی نوٹ کرنا چاہیے کہ 3 نومبر 1947 کو ایک خط صدر آزاد جموں و کشمیر کی طرف سے اقوام متحدہ کو بھیجا گیا جہاں انہوں نے یہ درخواست کی کہ وہ اپنے منصب اور اثر کو استعمال کرتے ہوئے چین، سوویت یونین (روس)، امریکہ اور برطانیہ کو گزارش کرے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کو تسلیم کرے۔

حوالہ: وکٹوریہ سکوفیلڈ
کتاب: کشمیر اِن کنفلکٹ: انڈیا، پاکستان اینڈ دی اَن اینڈنگ وار
صفحہ 132
.. 
مزید ہمیں علم ہونا چاہیے کہ بین الاقوامی قانون کی روشنی میں ہماری حیثیت کیا ہے۔

ڈاکٹر نذیر گیلانی دنیا میں سر فہرست قانونی ماہر ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ کی جموں و کشمیر کے متعلق قراردادوں کی تشریح کی:
:وہ لکھتے ہیں (اردو ترجمہ)
جموں و کشمیر کے لوگوں کے پاس ایک حقِ ملکیت (ٹائٹل) ہے جس کا دفاع کرنا ہے۔ انڈیا اور پاکستان کی طرف سے پیش کیے گئے مسابقتی دعوے اسی ٹائٹل کے نتائج کے طور پر ابھرتے ہیں؛ وہ اسے ختم نہیں کر سکتے اور نہ اس پر فوقیت رکھتے ہیں۔ کوئی بھی مستقبل کا آئینی اور سیاسی تعلق اسی ٹائٹل سے پھوٹنا چاہیے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے اس ٹائٹل اور آزادانہ اظہارِ مرضی کے تابع رہنا چاہیے۔

حوالہ: نذیر گیلانی کی فیس بک وال
تاریخ: 12 ستمبر 2026
:لنک
 https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02J5QmgY9HKDLbcXq8ibX9vmicyFRwhiDmnx9UzNgd2kkuQKayWbm91JXtMbX86YyXl&id=1068385853&mibextid=Nif5oz

اب ہم لوگوں نے 2023 سے قبل بھی ہر تحریک میں گولیاں کھائی ہیں (آر اور پار) جب کہ انڈیا اور پاکستان کے دعوے بین الاقوامی قانون کی روشنی میں ہماری رائے کے تابع ہونے چاہئیں تھے
! 
ظاہر ہے کہ ہم نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JK JAAC) کی سنجیدہ قیادت میں ایک حقوق کی تحریک چلائی ہے 2023 سے، جس میں 2024، 2025 اور 2026 میں بھی ہمارے لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، ان کی طرف سے جن کی یہاں پہ کوئی قانونی حیثیت دراصل نہیں ہے
!
28
جون
 2026
 کو اس غیر جانبدار محقق نے
 JK JAAC
کے کور ممبران کو التجا کی تھی کہ وہ اپنی عوام کے حقوق کے حصول کے لیے اب مطالبات کے بجائے اپنی آئینی اور قانونی استحقاق کو استعمال کرنا چاہیے۔

وہ آئینی اور قانونی استحقاق کیا ہیں؟

4
کام ہیں جو ہم ویسے بھی کر سکتے ہیں موجودہ صورتِ حال میں، کم سے کم 2 اضلاع میں (یعنی پونچھ اور سدھنوتی)

1)
 مردم شماری / رائے شماری / ریفرنڈم / عوامی مینڈیٹ کو تحریری طور پر ظاہر کرنا جو ہمیں نظام چلانے کے لیے آئینی، قانونی اور جمہوری جوازیت دے گا۔
2)
اپنی پبلک مقامات - جہاں پہ بھی ہماری عوام اکٹھی ہوتی ہے اور باقی عوامی جگہوں پر ہم صفائی کر سکتے ہیں تاکہ دنیا ہمارے منظم ارادے جانچ سکے اور ہماری اور قابضین کے درمیان سوچ کا فرق نظر آئے۔ ہماری آنے والی معیشت کا بھی راز اسی میں ہے۔
3)
مٹی اور 4)
 پانی) کی منصوبہ بندی جس کے ذریعے ہم خالص خوراک پیدا کر سکیں۔ اسی سے ہم اوروں کی محتاجی سے بچ جائیں گے، ہمارے لوگوں کی صحت اور سوچ میں اضافہ ہوگا، دنیا میں جنگوں اور عالمی خوراک کی رسائی کے مسائل اور مہنگائی سے محفوظ ہوں گے اور آنے والے وقت میں جب ہم اپنا نظام چلائیں گے تو سیاحت کے اضافے کے نتیجے میں ہم خالص خوراک یہی اپنی دھرتی سے مہیا کر سکیں گے۔ بلکہ اس سے اضافی بات یہ ہے کہ ہم یہاں کی معیاری خوراک کو اپنے تارکینِ وطن تک بھی بیرون ملکوں کو بھی بھیج سکیں گے۔

جو ایک عوامی اتھارٹی کے تقاضے ہیں جو ہم نے 
JK JAAC
 :کو 28 جون 2026 کو زور دیا تھا

1)
دفاع (Security)
2)
مواصلات (Communications)
3)
 سکہ (Currency)
4)
 خارجہ امور (Foreign Affairs)

یہ 4 سبجیکٹس ہم پہلے 4 عوامل کے ذریعے کم سے کم پہلے مرحلے میں پونچھ اور سدھنوتی کے اضلاع میں لاگو کر سکتے ہیں۔
.. 

2)
 قابضین کا کردار
ان کا کام - سادہ الفاظ میں یہ ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ اور بالخصوص برطانیہ سے رجوع کرے، کیوں کے دونوں رضاکارانہ طور پر اس فریم ورک کا حصہ بنے اور ان کو سمجھ آنی چاہیے کہ اپنے آپ کو یہاں قانونی بنانے کے لیے ان کو یہاں کے لوگوں کی رضامندی (بلا جبر اور بلا لالچ) یہاں کے لوگوں کے تابع ہونا پڑے گا۔ اس فریم ورک کے تحت فوجی انخلاء شرط ہے۔ باقی دونوں ملکوں کا یہاں پہ داخلہ اور نتیجے میں بلا احتساب حکمرانی نے اس مسئلے کو پیچیدہ بنایا گیا۔ یہ پیچیدگیاں وہ برطانیہ سے ڈسکس کرے اور وہ آپس میں حل تلاش کرے۔ نقصان تو ہمارا ہوا ہے۔ ہم خود ازالہ اپنی ذمہ داریوں کی روشنی میں کر رہے ہیں۔
..

3)
 برطانیہ کا کردار
برطانیہ نے اپنے ہی قانون - جس کے ذریعے انڈیا اور پاکستان پیدا ہوئے - یعنی قانون آزادیِ ہند (18 جولائی 1947 کو برٹش پارلیمنٹ نے پاس کیا) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کو جبر سے اور انڈیا کو مکاری سے یہاں داخل کرایا گیا - یہاں کی عوام کو پوچھے بغیر - برٹش فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول کے ذریعے۔ رائے پہلے پوچھی جاتی ہے نہ کہ فوجیں داخل کرانے کے بعد ۔ یہی وجہ ہے کہ 79 سال سے یہ مسئلہ پیچیدہ ہوا ہے اور رائے شماری - دنیا یا اقوامِ متحدہ کے ذریعے - محض ایک لولی پاپ ثابت ہوا۔ برطانیہ سے ہمیں کسی اور چیز کی ضرورت یا محتاجی نہیں ہے۔ فوجی انخلاء اس کی قانونی ذمہ داری ہے اور اس قانونی ذمہ داری کا ذکر متعدد مرتبہ یو کے پارلیمنٹ کے ممبران نے اٹھایا ہے۔
:حوالہ
 عمران حسین ایم پی کا ایک ویڈیو بھی درج ذیل شیئر کر رہا ہوں۔
..

4)
 باقی دنیا (نمایاں مصالحتی ادارے، طاقتور ممالک، انسانی حقوق کے ادارے اور نمایاں نشریاتی اور علمی ادارے)

سب کو یہ علم ہوگا کہ 79 سال سے دنیا کا کوئی بھی ادارہ یا ملک جموں و کشمیر میں امن قائم نہیں کر سکا۔

امن صرف یہاں کے لوگ ہی قائم کر سکتے ہیں کیوں کہ غرض اور ضرورت ہی یہاں کے لوگوں کی ہے۔ ہم بحیثیتِ قوم ایک پُر تشدد ماحول جہاں پہ یہاں کا نظام اور معیشت تشدد کے تابع ہو مزید قابلِ قبول نہیں ہے۔

ایک پُر امن ماحول ہی پُر امن معیشت کو جنم دے سکتی ہے اور اسی ذریعے ہمارے لوگوں کی صلاحیتیں بروئے کار لائی جا سکتی ہیں۔

یہ ہماری ضرورت بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ ہم کسی اور کو یہ ذمہ داری اب نہیں دے سکتے۔

آپ سب سے گزارش ہے کہ جموں و کشمیر کی جغرافیائی اور ماحولیاتی تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ ہماری باتیں آپ کو نہایت ہی منطقی محسوس ہوں گی اور اس میں اس خطے کے علاوہ دنیا کو بھی فائدہ ہے۔

یہاں کے مسئلے کو یہاں کے لوگوں کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرے۔ ہم آپ سب سے کچھ بھی نہیں مانگتے - یہ دنیا کا تقابلی اعتبار سے مہنگا ترین خطہ ہے۔

ہاں، آپ کی یکجہتی، ہمارے انسانی حقوق کی انگنت پامالیوں پر نظر اور آواز اٹھانا، انسانی تناظر میں اہم ہے۔ اس طریقے سے آپ بھی اس خطے میں ایک مستقل امن کے معاون بن سکتے ہیں۔
. ....

Friday, 23 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 296 of 2026

1253hrs:

Day 141 and yesterday (Day 140) I finally became convinced that we are converting our strategy from:

#RightsMovementAJK

#RightsMovementAJK2023

to

#ResponsibleMovementAJK

#ResponsibleMovementAJK2026

Whereby instead of seeking (usurped) rights from an absolutist & despotic occupier (Pakistan) created for the benefit of colonial strategic interest (Britain), we convert our strategy to recognising each other's rights as co-citizens and consequently fulfilling our respective responsibilities to create our own world class system of governance. 

Urdu gist:

دیا جائے سے کیا جائے کا سفر۔

دوسروں سے حقوق تلاش کرنے (دیا جائے) کے بجائے، خود ایک دوسرے کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داری نبھائی جائے (کیا جائے)۔
....

Wednesday, 21 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 294 of 2026

1210hrs:

Day 139 of torment from Pakistan on AJK. 

Today is also the 4th day of our indefinite sit-in protest outside the UK prime minister's residence at 10 Downing St, London SW1. This event has conjured up many a self-subdued emotion within me, as it has been conceptualised for the past 2 decades. 

I knew the lack of emotional attachment of our UK born diaspora with their roots in Jammu & Kashmir was a major hindrance in making them understand British colonial legacy and its enduring damage to our geography. 

Now that this event has finally materialised and it will remain in place until the UK fulfills its legal responsibilities towards this State (of J & K), we can now concentrate on creating a structure for negotiations, although its success totally depends on an organic indigenous political process in AJK. 

This is what we are intensely focussing on at this stage. 

....


Tuesday, 20 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 293 of 2026

1145hrs:

Day 138 of this imposed war on our territory and we are now beginning to look at world records for peaceful sit-in protests:


Sunday, 18 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 291 of 2026

1201hrs:

Day 136 and today we accumulate another milestone as intimated 2 days ago, which could be our most significant yet. 

An indefinite sit-in protest - round the clock - begins this afternoon outside 10 Downing St SW1 London viz. The UK prime minister's residence. 


....

Saturday, 17 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 290 of 2026

1208hrs:

Day 135 it is and this conflict almost seems to have been normalised, or rather that we have all adapted to it, knowing full well that ultimate victory is ours to keep & cherish. 

It is not that we didn't warn the Pakistani State beforehand, with ample notice. 

....

Friday, 16 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 289 of 2026

1247hrs:

Day 134 and we notice that Pakistan is burning from the inside. What you sow is what you reap no doubt. 

We have no enmity, hatred or bad intentions towards any country in the world. We also understand that giving lessons in law, justice or rights to Indians & Pakistanis has always made them respond with arms & ammunition. One of the major reasons for this is that their legal frameworks remain essentially colonial. 

The original framers of these legal frameworks were of course the British colonial empire. Our people in AJK are finally beginning to realise that addressing British colonial legacy in our region requires us to politely confront the United Kingdom, who cannot respond to our concerns with the gun, like India & Pakistan or indeed like their ancestors did in this region. 

The decision by our diaspora in the UK to conduct an indefinite sit-in protest outside the UK prime minister's residence (10 Downing St. SW1 London) from this Sunday onwards is a very much awaited & anticipated step in that direction. 

....

Thursday, 15 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 288 of 2026

1233hrs:

It is Day 133 of a pointless war foisted on us by our Western neighbour, though it has enabled us to accumulate all those points against it, which otherwise hitherto were almost impossible to make our people realise their destructive intent. 

....

These are some of the various types of bullets used by Pakistani occupation forces against peaceful protestors in AJK. It is not a coincidence that the pot is trying its best to convince the world that the kettle is black!

To cut it short:

If Pakistan genuinely wants a solution, it has to vacate AJK by all means peaceful. 

Even if it wants to mount a serious claim to this territory, it could earn a lot of political mileage by outlining its claim from its own country, without interfering in AJK. 

Demilitarisation as well as militarisation is a sequential process, never simultaneous. 

Pakistani demilitarisation from JKA will create the conditions for Indian demilitarisation. This is the lesson learned from Pakistan's antics in 1947 and 1988.

Meanwhile....

For those still victims of propaganda:

From A in Azad to All for A. Invert the A in AJK becomes JKA. 

Gilgit Baltistan & Ladakh will be more visible in A (for all). 

Not many people realise, that the people of these territories, hold the biggest political leverage in the whole world.

..

Urdu translation of the above (with the noble assistance of AI):

:مختصر یہ کہ

اگر پاکستان واقعی حل چاہتا ہے، تو اسے ہر حال میں پرامن طور پر آزاد جموں و کشمیر سے نکلنا ہوگا۔

حتیٰ کہ اگر وہ اس علاقے پر کوئی سنجیدہ دعویٰ بھی کرنا چاہتا ہے، تو وہ آزاد جموں و کشمیر میں مداخلت کیے بغیر، اپنے ملک میں رہ کر اپنا دعویٰ پیش کر کے بہت زیادہ سیاسی فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔

غیر عسکریت پسندی اور عسکریت پسندی ایک ترتیبی عمل ہے، کبھی بھی بیک وقت نہیں ہوتا۔

آزاد جموں و کشمیر سے پاکستان کا انخلاء (ڈی ملٹرائزیشن) ہی بھارتی انخلاء کے لیے حالات پیدا کرے گا۔ یہی سبق ہے جو 1947 اور 1988 میں پاکستان کی حرکتوں سے سیکھا گیا ہے۔

اس دوران....

ان لوگوں کے لیے جو اب بھی پروپیگنڈے کا شکار ہیں:

A برائے آزاد سے A برائے سب۔ AJK میں A کو الٹا دیں تو JKA بن جاتا ہے۔

گلگت بلتستان اور لداخ، A (سب کے لیے) میں زیادہ نمایاں ہوں گے۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ان علاقوں کے لوگ دنیا میں سب سے بڑی سیاسی قوت رکھتے ہیں۔

....

Wednesday, 14 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 287 of 2026

1237hrs:

Day 132 it is and I apologise for a 9 day absence. It wasn't voluntarily, rather enforced by the sudden drop in temperature and the onset of a nasty flu. I was advised to not set outside until I had completely recovered. 

....

Daily Diary (DD) - Day 298 of 2026

1217hrs: Day 143 and we have proved that consistency creates levels of strength and endurance not conceived of before.  Our energies are slo...