Day 142 and it coincides with a provisional government declaration in this territory 79 years ago (24 October 1947).
Can we bring our public back to that original constitutional position? What will be discussed in public at Eidgaah, Dreak in Rawalakot today will provide more than a clue, as to whether we can convert our rights movement into a (self) responsible movement cum authority cum government.
....
24 اکتوبر
2026
1)
آزاد جموں و کشمیر کی عوام کا کردار
2)
قابضین کا کردار
3)
برطانیہ کا کردار
4)
باقی دنیا (نمایاں مصالحتی ادارے، طاقتور ممالک، انسانی حقوق کے ادارے اور نمایاں نشریاتی اور علمی ادارے)
..
1)
آزاد جموں و کشمیر کی عوام کا کردار
جو ہم نے غیر جانبدار تحقیق سے اخذ کیا پچھلے 142 دن سے، پچھلے 4 سال سے اور مجموعی طور پر پچھلے 79 سال سے
__
کہ ہم نے خود اپنی قومی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ یعنی جو ذمہ داریاں ہم نے نبھانی تھیں وہ ہم نے مطالبات کے ذریعے - پڑوسی قابضین سے یا دنیا کی طاقتوں سے پوری کرنے کی ناکام کوشش کی۔
ہم نے اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنی آئینی اور قانونی استحقاق نہیں استعمال کیا۔
آج کے دن کی نسبت سے (24 اکتوبر 2026) جو اعلامیہ 79 سال پہلے جنجال ہل پلندری سے جاری ہوا تھا، اس کے متن اور 4 اہم نقاط پر غور نہیں کیا (اس اعلامیہ کا حوالہ جات دونوں انگریزی اور اردو میں درج ذیل ہیں)۔
ان 4 نقاط کو نظر انداز کر کے یہاں کا نظام چلایا گیا، جہاں عوام - جس نے شخصی راج کے خلاف بغاوت کی - انہی کے حقوق سلب کیے گئے۔ اور وہ آج تک سلب ہیں۔
4
:نقاط (خلاصہ)
a)
کہ لوگوں کی ضرورت کے پیش نظر شخصی راج سے بغاوت کی تاکہ ہم اپنے نظام کے لیے خود ذمہ دار ہوں۔
b)
کہ جتنی مذہبی اقلیتیں ہیں، ان کو بھی حکمرانی اور نظام میں شامل کریں گے۔
c)
کہ ہم نے ریاست جموں و کشمیر کے بیشتر حصوں پر اپنی رٹ قائم کر لی ہے اور باقی حصے بھی ہم بہت جلد شامل کر لیں گے۔
d)
کہ ہم پڑوسی ممالک انڈیا اور پاکستان کے ساتھ دوستانہ اور غیر جانبداری کے تعلقات قائم رکھیں گے۔
ہمیں یہ بھی نوٹ کرنا چاہیے کہ 3 نومبر 1947 کو ایک خط صدر آزاد جموں و کشمیر کی طرف سے اقوام متحدہ کو بھیجا گیا جہاں انہوں نے یہ درخواست کی کہ وہ اپنے منصب اور اثر کو استعمال کرتے ہوئے چین، سوویت یونین (روس)، امریکہ اور برطانیہ کو گزارش کرے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کو تسلیم کرے۔
حوالہ: وکٹوریہ سکوفیلڈ
کتاب: کشمیر اِن کنفلکٹ: انڈیا، پاکستان اینڈ دی اَن اینڈنگ وار
صفحہ 132
..
مزید ہمیں علم ہونا چاہیے کہ بین الاقوامی قانون کی روشنی میں ہماری حیثیت کیا ہے۔
ڈاکٹر نذیر گیلانی دنیا میں سر فہرست قانونی ماہر ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ کی جموں و کشمیر کے متعلق قراردادوں کی تشریح کی:
:وہ لکھتے ہیں (اردو ترجمہ)
جموں و کشمیر کے لوگوں کے پاس ایک حقِ ملکیت (ٹائٹل) ہے جس کا دفاع کرنا ہے۔ انڈیا اور پاکستان کی طرف سے پیش کیے گئے مسابقتی دعوے اسی ٹائٹل کے نتائج کے طور پر ابھرتے ہیں؛ وہ اسے ختم نہیں کر سکتے اور نہ اس پر فوقیت رکھتے ہیں۔ کوئی بھی مستقبل کا آئینی اور سیاسی تعلق اسی ٹائٹل سے پھوٹنا چاہیے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے اس ٹائٹل اور آزادانہ اظہارِ مرضی کے تابع رہنا چاہیے۔
حوالہ: نذیر گیلانی کی فیس بک وال
تاریخ: 12 ستمبر 2026
:لنک
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02J5QmgY9HKDLbcXq8ibX9vmicyFRwhiDmnx9UzNgd2kkuQKayWbm91JXtMbX86YyXl&id=1068385853&mibextid=Nif5oz
اب ہم لوگوں نے 2023 سے قبل بھی ہر تحریک میں گولیاں کھائی ہیں (آر اور پار) جب کہ انڈیا اور پاکستان کے دعوے بین الاقوامی قانون کی روشنی میں ہماری رائے کے تابع ہونے چاہئیں تھے
!
ظاہر ہے کہ ہم نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JK JAAC) کی سنجیدہ قیادت میں ایک حقوق کی تحریک چلائی ہے 2023 سے، جس میں 2024، 2025 اور 2026 میں بھی ہمارے لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، ان کی طرف سے جن کی یہاں پہ کوئی قانونی حیثیت دراصل نہیں ہے
!
28
جون
2026
کو اس غیر جانبدار محقق نے
JK JAAC
کے کور ممبران کو التجا کی تھی کہ وہ اپنی عوام کے حقوق کے حصول کے لیے اب مطالبات کے بجائے اپنی آئینی اور قانونی استحقاق کو استعمال کرنا چاہیے۔
وہ آئینی اور قانونی استحقاق کیا ہیں؟
4
کام ہیں جو ہم ویسے بھی کر سکتے ہیں موجودہ صورتِ حال میں، کم سے کم 2 اضلاع میں (یعنی پونچھ اور سدھنوتی)
1)
مردم شماری / رائے شماری / ریفرنڈم / عوامی مینڈیٹ کو تحریری طور پر ظاہر کرنا جو ہمیں نظام چلانے کے لیے آئینی، قانونی اور جمہوری جوازیت دے گا۔
2)
اپنی پبلک مقامات - جہاں پہ بھی ہماری عوام اکٹھی ہوتی ہے اور باقی عوامی جگہوں پر ہم صفائی کر سکتے ہیں تاکہ دنیا ہمارے منظم ارادے جانچ سکے اور ہماری اور قابضین کے درمیان سوچ کا فرق نظر آئے۔ ہماری آنے والی معیشت کا بھی راز اسی میں ہے۔
3)
مٹی اور 4)
پانی) کی منصوبہ بندی جس کے ذریعے ہم خالص خوراک پیدا کر سکیں۔ اسی سے ہم اوروں کی محتاجی سے بچ جائیں گے، ہمارے لوگوں کی صحت اور سوچ میں اضافہ ہوگا، دنیا میں جنگوں اور عالمی خوراک کی رسائی کے مسائل اور مہنگائی سے محفوظ ہوں گے اور آنے والے وقت میں جب ہم اپنا نظام چلائیں گے تو سیاحت کے اضافے کے نتیجے میں ہم خالص خوراک یہی اپنی دھرتی سے مہیا کر سکیں گے۔ بلکہ اس سے اضافی بات یہ ہے کہ ہم یہاں کی معیاری خوراک کو اپنے تارکینِ وطن تک بھی بیرون ملکوں کو بھی بھیج سکیں گے۔
جو ایک عوامی اتھارٹی کے تقاضے ہیں جو ہم نے
JK JAAC
:کو 28 جون 2026 کو زور دیا تھا
1)
دفاع (Security)
2)
مواصلات (Communications)
3)
سکہ (Currency)
4)
خارجہ امور (Foreign Affairs)
یہ 4 سبجیکٹس ہم پہلے 4 عوامل کے ذریعے کم سے کم پہلے مرحلے میں پونچھ اور سدھنوتی کے اضلاع میں لاگو کر سکتے ہیں۔
..
2)
قابضین کا کردار
ان کا کام - سادہ الفاظ میں یہ ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ اور بالخصوص برطانیہ سے رجوع کرے، کیوں کے دونوں رضاکارانہ طور پر اس فریم ورک کا حصہ بنے اور ان کو سمجھ آنی چاہیے کہ اپنے آپ کو یہاں قانونی بنانے کے لیے ان کو یہاں کے لوگوں کی رضامندی (بلا جبر اور بلا لالچ) یہاں کے لوگوں کے تابع ہونا پڑے گا۔ اس فریم ورک کے تحت فوجی انخلاء شرط ہے۔ باقی دونوں ملکوں کا یہاں پہ داخلہ اور نتیجے میں بلا احتساب حکمرانی نے اس مسئلے کو پیچیدہ بنایا گیا۔ یہ پیچیدگیاں وہ برطانیہ سے ڈسکس کرے اور وہ آپس میں حل تلاش کرے۔ نقصان تو ہمارا ہوا ہے۔ ہم خود ازالہ اپنی ذمہ داریوں کی روشنی میں کر رہے ہیں۔
..
3)
برطانیہ کا کردار
برطانیہ نے اپنے ہی قانون - جس کے ذریعے انڈیا اور پاکستان پیدا ہوئے - یعنی قانون آزادیِ ہند (18 جولائی 1947 کو برٹش پارلیمنٹ نے پاس کیا) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کو جبر سے اور انڈیا کو مکاری سے یہاں داخل کرایا گیا - یہاں کی عوام کو پوچھے بغیر - برٹش فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول کے ذریعے۔ رائے پہلے پوچھی جاتی ہے نہ کہ فوجیں داخل کرانے کے بعد ۔ یہی وجہ ہے کہ 79 سال سے یہ مسئلہ پیچیدہ ہوا ہے اور رائے شماری - دنیا یا اقوامِ متحدہ کے ذریعے - محض ایک لولی پاپ ثابت ہوا۔ برطانیہ سے ہمیں کسی اور چیز کی ضرورت یا محتاجی نہیں ہے۔ فوجی انخلاء اس کی قانونی ذمہ داری ہے اور اس قانونی ذمہ داری کا ذکر متعدد مرتبہ یو کے پارلیمنٹ کے ممبران نے اٹھایا ہے۔
:حوالہ
عمران حسین ایم پی کا ایک ویڈیو بھی درج ذیل شیئر کر رہا ہوں۔
..
4)
باقی دنیا (نمایاں مصالحتی ادارے، طاقتور ممالک، انسانی حقوق کے ادارے اور نمایاں نشریاتی اور علمی ادارے)
سب کو یہ علم ہوگا کہ 79 سال سے دنیا کا کوئی بھی ادارہ یا ملک جموں و کشمیر میں امن قائم نہیں کر سکا۔
امن صرف یہاں کے لوگ ہی قائم کر سکتے ہیں کیوں کہ غرض اور ضرورت ہی یہاں کے لوگوں کی ہے۔ ہم بحیثیتِ قوم ایک پُر تشدد ماحول جہاں پہ یہاں کا نظام اور معیشت تشدد کے تابع ہو مزید قابلِ قبول نہیں ہے۔
ایک پُر امن ماحول ہی پُر امن معیشت کو جنم دے سکتی ہے اور اسی ذریعے ہمارے لوگوں کی صلاحیتیں بروئے کار لائی جا سکتی ہیں۔
یہ ہماری ضرورت بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ ہم کسی اور کو یہ ذمہ داری اب نہیں دے سکتے۔
آپ سب سے گزارش ہے کہ جموں و کشمیر کی جغرافیائی اور ماحولیاتی تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ ہماری باتیں آپ کو نہایت ہی منطقی محسوس ہوں گی اور اس میں اس خطے کے علاوہ دنیا کو بھی فائدہ ہے۔
یہاں کے مسئلے کو یہاں کے لوگوں کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرے۔ ہم آپ سب سے کچھ بھی نہیں مانگتے - یہ دنیا کا تقابلی اعتبار سے مہنگا ترین خطہ ہے۔
ہاں، آپ کی یکجہتی، ہمارے انسانی حقوق کی انگنت پامالیوں پر نظر اور آواز اٹھانا، انسانی تناظر میں اہم ہے۔ اس طریقے سے آپ بھی اس خطے میں ایک مستقل امن کے معاون بن سکتے ہیں۔
. ....