Visitors

Sunday, 1 November 2026

Daily Diary (DD) - Day 305 of 2026

Day 150 it is and it should have been inevitable that this was going to be a long & decisive conflict (of intentions more than anything else). 

Intentions of the Pakistani State:
To continue its conflict economy, that works well for its elites and their foreign assets portfolio but heaps misery on its population in general. 

Intentions of the AJK public:
To participate in building a world class peace economy, that not only delivers to all segments of society but has a consequent dividend for our wider region too. 

....

Saturday, 31 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 304 of 2026

1158hrs:

Day 149 and this latest invasion (after the main one in 1947 and to tackle the Poonch rebellion of the 1950s) is delivering various twists which are still to be fathomed. 

Apart from the continuation of arrests, listing further citizens under schedule 4 and of course killing minors & elders in indiscriminate firing/shelling (as has happened on over 2 occasions in Bagh district of late), the Pakistanis have themselves closed off 2 major entry points from their country into AJK (namely Azad Pattan & Tain Dhalkot in Poonch division) since the day before yesterday (Thursday 29 October 2026), creating fortifications & barriers including on hilltops on their side of the border. They have also erected such fortifications on the either side of Kohalla (the area of Murree in Pakistan) although these particular fortifications are a lot more discreet, as they haven't closed Kohalla bridge. Here, they are manning the hilltops on either side viz. those in AJK along with those opposite them in Pakistan. 

What is clear is that this conflict/war is becoming more intense as well as complex. It will get a lot worse before it eventually gets better. 

....

Thursday, 29 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 302 of 2026

1206hrs:

Day 147 and the battle continues, although not quite in the direction that the Pakistani State wants to take it towards. Much more than a one-sided propaganda war where the world's most greedy terrorists (operators of the Pakistani State) are trying to portray an exemplary peaceful rights movement as terrorists, it is essentially a constitutional issue whereby the Pakistani State is operating in AJK without any genuine people referenced constitutional writ. What it does describe as a constitution is in fact an absolutist document. 

There was a time when this writer was perhaps the only person logging and documenting human rights violations in AJK. It is a proud sense of being that multiple citizens & organisations in or of the territory have been doing so increasingly over the past few years, most notably since the onset of this Pakistani invasion on the 5th of June 2026.

In the interim, this writer has listed the types of human rights violations happening on a daily basis and is also compiling a comprehensive human rights violations database, that will be published once we are satisfied that it is accurate & complete. 

....

Wednesday, 28 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 301 of 2026

1237hrs:

On Day 146 we notice the increasing desperation on the part of our occupiers to crush the ongoing movement and are likewise prepared for all eventualities. They have a timetable to abide by ultimately. We have the luxury of not being time-bound in any way. 

This is the strength we have drawn on for almost 5 months of an enforced conflict and this 'timeless' strength is what is increasing our options with each passing day. 

....

Sunday, 25 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 298 of 2026

1217hrs:

Day 143 and we have proved that consistency creates levels of strength and endurance not conceived of before. 

Our energies are slowly converging simultaneously between Rawalakot & London, as it is 2026 that marks the final stand between the people of Jammu Kashmir & Allied (areas) and the British designed colonial division of this State (between India & Pakistan) in 1947, strains to achieve its fait accompli of permanent division & practical disintegration of the erstwhile princely State. 

....

Saturday, 24 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 297 of 2026

1223hrs:

Day 142 and it coincides with a provisional government declaration in this territory 79 years ago (24 October 1947).

If that declaration is to be understood as a genuine reflection of those that rebelled against the autocratic Dogra regime, then it would be equally clear that those public aspirations were consequently hijacked and we have suffered since. 

Can we bring our public back to that original constitutional position? What will be discussed in public at Eidgaah, Dreak in Rawalakot today will provide more than a clue, as to whether we can convert our rights movement into a (self) responsible movement cum authority cum government. 

....

24 اکتوبر 
2026

1) 
آزاد جموں و کشمیر کی عوام کا کردار

2) 
قابضین کا کردار

3) 
برطانیہ کا کردار

4)
 باقی دنیا (نمایاں مصالحتی ادارے، طاقتور ممالک، انسانی حقوق کے ادارے اور نمایاں نشریاتی اور علمی ادارے)
.. 


1) 
آزاد جموں و کشمیر کی عوام کا کردار

جو ہم نے غیر جانبدار تحقیق سے اخذ کیا پچھلے 142 دن سے، پچھلے 4 سال سے اور مجموعی طور پر پچھلے 79 سال سے
__

کہ ہم نے خود اپنی قومی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ یعنی جو ذمہ داریاں ہم نے نبھانی تھیں وہ ہم نے مطالبات کے ذریعے - پڑوسی قابضین سے یا دنیا کی طاقتوں سے پوری کرنے کی ناکام کوشش کی۔

ہم نے اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنی آئینی اور قانونی استحقاق نہیں استعمال کیا۔

آج کے دن کی نسبت سے (24 اکتوبر 2026) جو اعلامیہ 79 سال پہلے جنجال ہل پلندری سے جاری ہوا تھا، اس کے متن اور 4 اہم نقاط پر غور نہیں کیا (اس اعلامیہ کا حوالہ جات دونوں انگریزی اور اردو میں درج ذیل ہیں)۔



ان 4 نقاط کو نظر انداز کر کے یہاں کا نظام چلایا گیا، جہاں عوام - جس نے شخصی راج کے خلاف بغاوت کی - انہی کے حقوق سلب کیے گئے۔ اور وہ آج تک سلب ہیں۔

4 
:نقاط (خلاصہ)

a)
 کہ لوگوں کی ضرورت کے پیش نظر شخصی راج سے بغاوت کی تاکہ ہم اپنے نظام کے لیے خود ذمہ دار ہوں۔

b)
 کہ جتنی مذہبی اقلیتیں ہیں، ان کو بھی حکمرانی اور نظام میں شامل کریں گے۔

c)
 کہ ہم نے ریاست جموں و کشمیر کے بیشتر حصوں پر اپنی رٹ قائم کر لی ہے اور باقی حصے بھی ہم بہت جلد شامل کر لیں گے۔

d)
 کہ ہم پڑوسی ممالک انڈیا اور پاکستان کے ساتھ دوستانہ اور غیر جانبداری کے تعلقات قائم رکھیں گے۔

ہمیں یہ بھی نوٹ کرنا چاہیے کہ 3 نومبر 1947 کو ایک خط صدر آزاد جموں و کشمیر کی طرف سے اقوام متحدہ کو بھیجا گیا جہاں انہوں نے یہ درخواست کی کہ وہ اپنے منصب اور اثر کو استعمال کرتے ہوئے چین، سوویت یونین (روس)، امریکہ اور برطانیہ کو گزارش کرے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کو تسلیم کرے۔

حوالہ: وکٹوریہ سکوفیلڈ
کتاب: کشمیر اِن کنفلکٹ: انڈیا، پاکستان اینڈ دی اَن اینڈنگ وار
صفحہ 132
.. 
مزید ہمیں علم ہونا چاہیے کہ بین الاقوامی قانون کی روشنی میں ہماری حیثیت کیا ہے۔

ڈاکٹر نذیر گیلانی دنیا میں سر فہرست قانونی ماہر ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ کی جموں و کشمیر کے متعلق قراردادوں کی تشریح کی:
:وہ لکھتے ہیں (اردو ترجمہ)
جموں و کشمیر کے لوگوں کے پاس ایک حقِ ملکیت (ٹائٹل) ہے جس کا دفاع کرنا ہے۔ انڈیا اور پاکستان کی طرف سے پیش کیے گئے مسابقتی دعوے اسی ٹائٹل کے نتائج کے طور پر ابھرتے ہیں؛ وہ اسے ختم نہیں کر سکتے اور نہ اس پر فوقیت رکھتے ہیں۔ کوئی بھی مستقبل کا آئینی اور سیاسی تعلق اسی ٹائٹل سے پھوٹنا چاہیے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے اس ٹائٹل اور آزادانہ اظہارِ مرضی کے تابع رہنا چاہیے۔

حوالہ: نذیر گیلانی کی فیس بک وال
تاریخ: 12 ستمبر 2026
:لنک
 https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02J5QmgY9HKDLbcXq8ibX9vmicyFRwhiDmnx9UzNgd2kkuQKayWbm91JXtMbX86YyXl&id=1068385853&mibextid=Nif5oz

اب ہم لوگوں نے 2023 سے قبل بھی ہر تحریک میں گولیاں کھائی ہیں (آر اور پار) جب کہ انڈیا اور پاکستان کے دعوے بین الاقوامی قانون کی روشنی میں ہماری رائے کے تابع ہونے چاہئیں تھے
! 
ظاہر ہے کہ ہم نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JK JAAC) کی سنجیدہ قیادت میں ایک حقوق کی تحریک چلائی ہے 2023 سے، جس میں 2024، 2025 اور 2026 میں بھی ہمارے لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، ان کی طرف سے جن کی یہاں پہ کوئی قانونی حیثیت دراصل نہیں ہے
!
28
جون
 2026
 کو اس غیر جانبدار محقق نے
 JK JAAC
کے کور ممبران کو التجا کی تھی کہ وہ اپنی عوام کے حقوق کے حصول کے لیے اب مطالبات کے بجائے اپنی آئینی اور قانونی استحقاق کو استعمال کرنا چاہیے۔

وہ آئینی اور قانونی استحقاق کیا ہیں؟

4
کام ہیں جو ہم ویسے بھی کر سکتے ہیں موجودہ صورتِ حال میں، کم سے کم 2 اضلاع میں (یعنی پونچھ اور سدھنوتی)

1)
 مردم شماری / رائے شماری / ریفرنڈم / عوامی مینڈیٹ کو تحریری طور پر ظاہر کرنا جو ہمیں نظام چلانے کے لیے آئینی، قانونی اور جمہوری جوازیت دے گا۔
2)
اپنی پبلک مقامات - جہاں پہ بھی ہماری عوام اکٹھی ہوتی ہے اور باقی عوامی جگہوں پر ہم صفائی کر سکتے ہیں تاکہ دنیا ہمارے منظم ارادے جانچ سکے اور ہماری اور قابضین کے درمیان سوچ کا فرق نظر آئے۔ ہماری آنے والی معیشت کا بھی راز اسی میں ہے۔
3)
مٹی اور 4)
 پانی) کی منصوبہ بندی جس کے ذریعے ہم خالص خوراک پیدا کر سکیں۔ اسی سے ہم اوروں کی محتاجی سے بچ جائیں گے، ہمارے لوگوں کی صحت اور سوچ میں اضافہ ہوگا، دنیا میں جنگوں اور عالمی خوراک کی رسائی کے مسائل اور مہنگائی سے محفوظ ہوں گے اور آنے والے وقت میں جب ہم اپنا نظام چلائیں گے تو سیاحت کے اضافے کے نتیجے میں ہم خالص خوراک یہی اپنی دھرتی سے مہیا کر سکیں گے۔ بلکہ اس سے اضافی بات یہ ہے کہ ہم یہاں کی معیاری خوراک کو اپنے تارکینِ وطن تک بھی بیرون ملکوں کو بھی بھیج سکیں گے۔

جو ایک عوامی اتھارٹی کے تقاضے ہیں جو ہم نے 
JK JAAC
 :کو 28 جون 2026 کو زور دیا تھا

1)
دفاع (Security)
2)
مواصلات (Communications)
3)
 سکہ (Currency)
4)
 خارجہ امور (Foreign Affairs)

یہ 4 سبجیکٹس ہم پہلے 4 عوامل کے ذریعے کم سے کم پہلے مرحلے میں پونچھ اور سدھنوتی کے اضلاع میں لاگو کر سکتے ہیں۔
.. 

2)
 قابضین کا کردار
ان کا کام - سادہ الفاظ میں یہ ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ اور بالخصوص برطانیہ سے رجوع کرے، کیوں کے دونوں رضاکارانہ طور پر اس فریم ورک کا حصہ بنے اور ان کو سمجھ آنی چاہیے کہ اپنے آپ کو یہاں قانونی بنانے کے لیے ان کو یہاں کے لوگوں کی رضامندی (بلا جبر اور بلا لالچ) یہاں کے لوگوں کے تابع ہونا پڑے گا۔ اس فریم ورک کے تحت فوجی انخلاء شرط ہے۔ باقی دونوں ملکوں کا یہاں پہ داخلہ اور نتیجے میں بلا احتساب حکمرانی نے اس مسئلے کو پیچیدہ بنایا گیا۔ یہ پیچیدگیاں وہ برطانیہ سے ڈسکس کرے اور وہ آپس میں حل تلاش کرے۔ نقصان تو ہمارا ہوا ہے۔ ہم خود ازالہ اپنی ذمہ داریوں کی روشنی میں کر رہے ہیں۔
..

3)
 برطانیہ کا کردار
برطانیہ نے اپنے ہی قانون - جس کے ذریعے انڈیا اور پاکستان پیدا ہوئے - یعنی قانون آزادیِ ہند (18 جولائی 1947 کو برٹش پارلیمنٹ نے پاس کیا) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کو جبر سے اور انڈیا کو مکاری سے یہاں داخل کرایا گیا - یہاں کی عوام کو پوچھے بغیر - برٹش فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول کے ذریعے۔ رائے پہلے پوچھی جاتی ہے نہ کہ فوجیں داخل کرانے کے بعد ۔ یہی وجہ ہے کہ 79 سال سے یہ مسئلہ پیچیدہ ہوا ہے اور رائے شماری - دنیا یا اقوامِ متحدہ کے ذریعے - محض ایک لولی پاپ ثابت ہوا۔ برطانیہ سے ہمیں کسی اور چیز کی ضرورت یا محتاجی نہیں ہے۔ فوجی انخلاء اس کی قانونی ذمہ داری ہے اور اس قانونی ذمہ داری کا ذکر متعدد مرتبہ یو کے پارلیمنٹ کے ممبران نے اٹھایا ہے۔
:حوالہ
 عمران حسین ایم پی کا ایک ویڈیو بھی درج ذیل شیئر کر رہا ہوں۔
..

4)
 باقی دنیا (نمایاں مصالحتی ادارے، طاقتور ممالک، انسانی حقوق کے ادارے اور نمایاں نشریاتی اور علمی ادارے)

سب کو یہ علم ہوگا کہ 79 سال سے دنیا کا کوئی بھی ادارہ یا ملک جموں و کشمیر میں امن قائم نہیں کر سکا۔

امن صرف یہاں کے لوگ ہی قائم کر سکتے ہیں کیوں کہ غرض اور ضرورت ہی یہاں کے لوگوں کی ہے۔ ہم بحیثیتِ قوم ایک پُر تشدد ماحول جہاں پہ یہاں کا نظام اور معیشت تشدد کے تابع ہو مزید قابلِ قبول نہیں ہے۔

ایک پُر امن ماحول ہی پُر امن معیشت کو جنم دے سکتی ہے اور اسی ذریعے ہمارے لوگوں کی صلاحیتیں بروئے کار لائی جا سکتی ہیں۔

یہ ہماری ضرورت بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ ہم کسی اور کو یہ ذمہ داری اب نہیں دے سکتے۔

آپ سب سے گزارش ہے کہ جموں و کشمیر کی جغرافیائی اور ماحولیاتی تقاضوں کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ ہماری باتیں آپ کو نہایت ہی منطقی محسوس ہوں گی اور اس میں اس خطے کے علاوہ دنیا کو بھی فائدہ ہے۔

یہاں کے مسئلے کو یہاں کے لوگوں کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرے۔ ہم آپ سب سے کچھ بھی نہیں مانگتے - یہ دنیا کا تقابلی اعتبار سے مہنگا ترین خطہ ہے۔

ہاں، آپ کی یکجہتی، ہمارے انسانی حقوق کی انگنت پامالیوں پر نظر اور آواز اٹھانا، انسانی تناظر میں اہم ہے۔ اس طریقے سے آپ بھی اس خطے میں ایک مستقل امن کے معاون بن سکتے ہیں۔
. ....

Friday, 23 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 296 of 2026

1253hrs:

Day 141 and yesterday (Day 140) I finally became convinced that we are converting our strategy from:

#RightsMovementAJK

#RightsMovementAJK2023

to

#ResponsibleMovementAJK

#ResponsibleMovementAJK2026

Whereby instead of seeking (usurped) rights from an absolutist & despotic occupier (Pakistan) created for the benefit of colonial strategic interest (Britain), we convert our strategy to recognising each other's rights as co-citizens and consequently fulfilling our respective responsibilities to create our own world class system of governance. 

Urdu gist:

دیا جائے سے کیا جائے کا سفر۔

دوسروں سے حقوق تلاش کرنے (دیا جائے) کے بجائے، خود ایک دوسرے کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داری نبھائی جائے (کیا جائے)۔
....

Wednesday, 21 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 294 of 2026

1210hrs:

Day 139 of torment from Pakistan on AJK. 

Today is also the 4th day of our indefinite sit-in protest outside the UK prime minister's residence at 10 Downing St, London SW1. This event has conjured up many a self-subdued emotion within me, as it has been conceptualised for the past 2 decades. 

I knew the lack of emotional attachment of our UK born diaspora with their roots in Jammu & Kashmir was a major hindrance in making them understand British colonial legacy and its enduring damage to our geography. 

Now that this event has finally materialised and it will remain in place until the UK fulfills its legal responsibilities towards this State (of J & K), we can now concentrate on creating a structure for negotiations, although its success totally depends on an organic indigenous political process in AJK. 

This is what we are intensely focussing on at this stage. 

....


Tuesday, 20 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 293 of 2026

1145hrs:

Day 138 of this imposed war on our territory and we are now beginning to look at world records for peaceful sit-in protests:


Sunday, 18 October 2026

Daily Diary (DD) - Day 291 of 2026

1201hrs:

Day 136 and today we accumulate another milestone as intimated 2 days ago, which could be our most significant yet. 

An indefinite sit-in protest - round the clock - begins this afternoon outside 10 Downing St SW1 London viz. The UK prime minister's residence. 


....

Daily Diary (DD) - Day 305 of 2026

Day 150 it is and it should have been inevitable that this was going to be a long & decisive conflict (of intentions more than anything ...