A Journey in Jammu Kashmir & Allied areas (JKA)............................ from Subject to Citizen .........autocracy to democracy .........Dogra Raaj to Awaami Raaj .........1947 CE to........................... #WhiteFlags #Neutrality #WaterManagement #MirpurtoLondonviaCentralAsia
Visitors
Monday, 6 October 2025
Daily Diary (DD) - Day 279 of 2025
Saturday, 27 September 2025
Daily Diary (DD) - Day 270 of 2025
....
اسلام علیکم
جی تنویر صاحب آپ جس انداز میں اپنی ریاست کیلئے دن رات ایک کر کے کام کر رہے ہیں یقیناً قابلِ تحسین ھے۔۔۔ ہر مکتبہ فکر یا گروہ کا ریاست کیلئے کام کرنے کا اپنا اپنا طریقہ ھے۔۔۔۔ لیکن آپ جو کام کر رہے ہیں اصل کام یہی ھے اور اتھینٹک معلومات حاصل کرنا اور عوام تک پہنچانا ہی اصل جدوجہد ھے کیونکہ جب عوام کو معلومات ھو گی تو وہ مقصد کا تعین کر سکے گی۔۔۔
بندہ ناچیز کی ناقص عقل کے مطابق مشاہدہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ھوں کہ آپ مجموعی طور پر جو تحقیق کر رہے ہیں کل ریاست کی آزادی و خودمختاری کی صورت میں یہ آئین و قانون کا جز بن سکتی ہیں۔۔۔۔
۔۔
طاقت کے استعمال کی قطعی گنجائش نہیں
حکومت پاکستان کی ذمہ داری
عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات
ڈائیلاگ کے اصول
حکومت پاکستان کے نمائندوں اور عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کے درمیا 38 مطالبات پر ڈائیلاگ میں رکاوٹ
میں ایک مطالبہ مہاجرین کی اسمبلی میں 12 نشستوں کو ختم کرنا کہا جا رہا ہے۔
الیکٹورل ریفارم کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی ریاست کے ساتھ
Political Continuity
آزاد کشمیر کی حکومت، حکومت پاکستان یا کوئی مقامی ریفرنڈم ختم نہیں کرسکتا۔ سیاسی اور جغرافیائی ہئیت
میں اقوام متحدہ کے طے شدہ فریم ورک سے ہٹ کر، ہر قسم کی کاروائی پر سیکیورٹی کونسل کی قرارداد 91 میں پابندی لگائی ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت نے یہ تبدیلی کیسے کی ۔
اس کا جواب
Netherlands
:نے 23 دسمبر 1952 کو سیکورٹی کونسل میں درج ذیل الفاظ میں دیا ہے
"We believe that this in itself constitutes a guarantee of considerable value. The party that would dare to violate an agreement thus reached would load upon itself a very grave offence against the other party, against the United Nations, and against the right of the people of Jammu and Kashmir to self-determination, a right which, in other contexts, both parties have so often and so eloquently defended."
ایکشن کمیٹی بے شک ایک عوامی حقوق کی بہت بڑی تحریک ہے۔ لیکن اس کے ذمہ داران پر اپنی قطب نماء کی ڈائریکشن درست رکھنے کی اہم ذمہداری ہے۔ سوشل میڈیا پر مختلف آراء کا تجزیہ اپنی جگہ لیکن اس تجزیے کی صحت کا لحاظ رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔
مہاجرین کے نمائندوں نے عوامی ناراضگی کو جنم دیا ہے۔ یہ اپنے کئے کے ذمہ دار ہیں اور
criminally
بھی
liable
ہیں
۔
لیکن انہیں
12 Aliens
کہنا درست نہیں۔
اگر برطانیہ کے دو بڑے سیاست دانوں
Enoch Powell اور Nigel Farage
کی نسل پرست اور باہر سے آنے والے لوگوں کے خلاف تقاریر برطانوی سیاست کا
Compass
بن جاتیں تو برطانیہ میں موجود 15 لاکھ کے قریب کشمیری ملک بدر کئے جاتے۔ نہ کوئی وزیر، نہ ممبر پارلیمنٹ
House of Commons اور House of Lords
کا ممبر ہوتا، نہ لندن کا مئیر اور نہ ہی مقامی انتظامیہ میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوتا۔ یہ 15 لاکھ لوگ
Economic Migrants
تھے۔ ان پر وہ الزام نہیں لگے جو مقبوضہ کشمیر سے
displaced اور Disenfranchised
لوگوں پر لگائے جا رہے ہیں۔ وقتی طور اس نعرے کی شائید پذیرائی ہو، لیکن آئینی اور قانونی طور اس کی کوئی
foundation
نہیں۔
جموں وکشمیر کونسل برائے انسانی ایکشن کمیٹی کے 37 مطالبات کی حمائیت کرتی ہے اور حکومت پاکستان نے ڈائیلاگ میں شائید 36 مطالبات کی حمائیت کی ہے۔
ڈائیلاگ کا اصول ہے کہ اتفاق پر عملدرآمد اصول طے کیا جائے اور اختلاف پر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔ اس کمیٹی میں ہر مکتب فکر کے لوگ شامل کرنے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ سے بھی رجوع کیا جا نا ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کی اس مداخلت کو
Netherlands
:نے درج ذیل پیرائے میں بیان کیا ہے
“...Let us not underestimate the significance of the fact that the authority of the Security Council has become a factor in the solution of this matter - unless an agreement can be found outside of the Council and that the auspices of the United Nations are involved.”
عوامی ایکشن کمیٹی کے پاس بھی کوئی
پاکستان کا اہم رول ہے۔ یہاں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی مداخلت نہ ہونے دینا، اداروں کی صلاحیت میں وسعت پیدا کرنا، بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرنا
کی طرف آگے بڑھنے پر توجہ دینی بہت ضروری ہے۔
ذمہ داریوں کے اس ماحول میں ڈائیلاگ بہت ضروری ہے۔ عوام کی عدالت اور عوامی مکاتب فکر کی فریقین کی نیت، صلاحیت اور درست
sense of proportionality
پر نظر ہے۔ کوئی بھی فریق اپنی غلطی یا
rigidity
کے
consequences
کا ذمہدار ہے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے
force
کا استعمال ایک
Legal, political
اور
moral error
ہوگا۔
حکومت پاکستان کی بڑی ذمی داری یہ ہے کہ وہ
protect, preserve
اور وہ
conditions prepare
کرے جو ریاست جموں وکشمیر کے عوام کو حق خودارادیت کی طرف لے جائیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں
Connectivity اور Continuity
کے اہم
elements
موجود نہیں۔
سید نذیر گیلانی
27
ستمبر 2025
۔۔۔۔
Daily Diary (DD) - Day 267 of 2026
1116hrs: On this 112th day of an idiotic war imposed on us by a terminally ill neighbour, we are working out various means of ensuring a str...
-
1128hrs: Countdown to end of 2025: 64 days Along with the various activities I do on a daily basis, as of yesterday I have added a daily 2 m...
-
Muhammad Ali Murtaza in his unsealed coffin Kotli – Azad Jammu and Kashmir (AJK) Thu. 21/02/13 Born in Lahore to a Sufi (Br...
