ایک
اندرونی علمی مکالمہ
آذاد
جموں و کشمیر میں باشندہ اور ریاست کے مابین معاہدے کی طرف گامزن۔۔۔۔
ریاست
جموں کشمیر و متحدہ علاقہ جات کا مستقبل میں قائم ہونا، اس معاہدہ عمرانی کے ساتھ
مشروط ہے۔
میں
آذاد جموں و کشمیر - اس نام سے جو مرضی مراد لیں - کے شہریوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل
کروں گا کہ اس خطے اور اس خطے میں مقیم
عوام کے سیاسی مستقبل کو بچانے کے لئے براہ راست جمہوریت پر اپنی تمام تر توجہ
مرکوز رکھیں (اپنے ہی شہریوں، اپنے اہل خانہ، رشتہ دار، دوستوں اور اپنے قبیلہ کے
لئے)۔
اس
خطے کو جنگی معشیت سے پر امن معشیت میں تبدیل کرنے کے لئے اس خطے کے عوام ہی بنیادی
کردار ادا کر سکتے ہیں نا کہ پڑوسی ممالک یا بین الاقوامی قوتیں۔
یہ
78 سالہ سبق ہے جو ابھی تک ہمارے اکثر لوگ سمجھ نہیں پائے، میں ایک مرتبہ پھر ہاتھ
جوڑ کر اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں۔
(آذاد جموں و کشمیر میں 19 سال اور چھے ماہ گزار چکے ہیں جس کا
ہمیں ذاتی طور پہ تو نقصان اٹھانا پڑا لیکن عوامی مفاد میں بہت سے فوائد پیدا ہوئے
ہیں ، کیونکہ اس خطے میں ہم نے غیر جانبدار اور تحقیق برائے عمل کی غرض سے بطور
محقق کام کیا ہے اور یوں ہم اپنے تجربے کی روشنی میں کہہ سکتے ہیں عوامی مفاد میں
جو فوائد حاصل ہوئے ہیں وہ بے پناہ ہیں)
16 منٹ کی اس ویڈیو کو دیکھیں اور کم از کم ایک پیرا گراف میں اپنی
آراء سے نوازیں:
آزاد
حکومت ریاست جموں و کشمیر نامی اس خطے میں قائم حکومت اور آزاد جموں و کشمیر کے
عوام کے درمیان باہمی مکالمے کی شروعات کرنا جو کہ اس حکومت کے قائم ہونے کے وقت
24 اکتوبر 1947 کے ڈیکلریشن میں بھی واضح ہے۔
اس
ویڈیو میں عبوری ڈیکلریشن پہ اٹھائے گئے چار سوالات پر بھی اپنا نکتہ نظر دے سکتے
ہیں۔
آپ
کی رائے اور تبصرہ ایک علمی ریکارڈ کا حصہ بنے گا درجے ذيل
ہشٹاگ
سے:
#Citizen2StateContractAJK
حوالہ
جات:
1- یہ دس سوال پہ مشتمل آذاد جموں و کشمیر کے شہریوں سے پوچھے گئے
سوالات کا سروے تھا اور اس سروے کا سوال نمبر پانچ اس نوٹ کا حصہ ہے:
https://drive.google.com/file/d/0B8NvBPqFcnTVS2phSkFJV2lJWmM/view
2- آزاد جموں و کشمیر کے قائم ہونے میں عبوری ڈیکلریشن اردو اور
انگلش میں اس لنک میں موجود ہے:
https://tanveerandkashmir.blogspot.com/2020/08/daily-diary-dd-day-218-of-2020.html?m=1
جے
کے اے پبلک ایجنسی نوٹ:
#U012003112024

