آذاد جموں کشمیر میں 10 اپریل 2023 کو جموں کشمیر و متحدہ علاقہ جات کے بیرون ملک مقیم قانون کے ماہر باشندگان سے مشاورت کے بعد۔۔۔۔
آزاد جموں کشمیر میں پبلک پالیسی کے لئے تحقیق، تصدیق، توثیق، انتظام اور لاگو کرنے کے لئے عوامی رائے کے ذریعے
ریفرنڈم پہ کام شروع ہوا۔
عبوری تحقیق کے نتائج*
1)
ہر پانچ سال کے بعد 1985 سے تسلسل کے ساتھ ہونے والے الیکشنز اور تقریباً 60 فی صد آبادی کو متحرک کیے رکھنے کا یہ عمل قابل تعریف ہے لیکن کم از کم دو کمیوں جن میں اول طور پہ اس عمل کا دھونس اور دھاندلی کی بنیاد پہ سو فیصد قابل عمل نہ ہونا اور لوگوں کو چھوٹے چھوٹے مسائل پہ بلیک میل کر کہ خوفزدہ کرنے کی وجہ سے، یہ واحد عوامی رائے جاننے کا ذریعہ نہیں ہے۔
2)
انتخابی عمل کبھی بھی قومی اور بین الاقوامی اہمیت کے سوالات کو حل نہیں کرتا، اس ضمن میں بریگزٹ (یورپین یونین میں رہنے یا نہ رہنے کے لئے ریفرنڈم کا اہتمام)اور سکاٹ لینڈ کی واضح مثالیں ہمارے پاس موجود ہیں کہ ایک سیاسی جماعت( برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی) واضح اکثریت رکھنے کے باوجود بھی ایسے معاملات پہ حتمی فیصلہ نہیں کر سکی جو برطانیہ کی حق حکمرانی کو متاثر کر سکتا ہو)
3)
جموں کشمیر و متحدہ علاقہ جات کی عوامی ایجنسی* نے آذاد جموں کشمیر میں 2011 سے 2016 کے درمیان رائے عامہ کو جانچنے کے لئے ایک سروے کیا، یہ عوامی سروے بین الاقوامی طور پہ رائے عامہ جانچنے کے دوگنا معیار رکھتا ہے، ہم لندن سکول آف اکنامکس کی عالمی شہرت یافتہ مہارت کے ذریعے، اس سروے کے عوامی نمائندہ کی حیثیت ہونے اور دیگر ممکنہ پیچیدگیاں کو دور کرنے کے حوالہ سے تحقیق، تنقید اور تصدیق کروانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔
4)
پبلک پالیسی بنانے کے لئے زمینی حقائق سے مطابقت رکھنے والے عوامی ریفرنڈم کی ایک بہت بڑی خلا موجود ہے جو کہ عوام کی حاکمیت، جو کہ مقبول حاکمیت کہلاتی ہے،کی تصدیق کرتا ہو۔ 1947 سے پہلے ہم شخصی حاکمیت سے عوامی حاکمیت کی طرف سفر کر رہے تھے بالکل اسی طرح جس طرح ہم شخصی آئین سازی سے جمہوری آئین سازی کی طرف بڑھ رہے تھے،
مہاراجہ اور اس کی رعایا دونوں ہی اقتتدار اعلی سے معزول کیے گئے تھے جبکہ انڈیا اور پاکستان مہاراجہ اور اس کی رعایا کو پس پشت ڈال کر ایک بین الاقوامی مسلہ کی آڑ میں جموں کشمیر و متحدہ علاقہ جات کے دعویدار بننا شروع ہو گئے۔
ہمیں اختیار سے محروم رکھنے کے لئے بے وقوف بنایا گیا، اب ہمارے پاس جمہوری طریقہ سے اس مسلے کو حل کرنے کا سنہری موقع ہے۔
آذاد جموں کشمیر میں لفظ آذاد کے پیش نظر مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس علاقہ میں ریفرنڈم کروائے جاتے رہے ہیں لہذا یہ کوئی نیا رجحان یا کام نہیں ہے۔ یہ واضح کرنا باقی ہے کہ رابرٹ ورسنگ نے "آذاد جموں کشمیر میں منظم آئینی ابہام" کے بارے میں کیا بیان کیا ہے۔
میرپور سے مرحوم عبدالمجید ملک اور بارہ مولہ سے ڈاکٹر نذیر گیلانی نے آذاد جموں کشمیر اور بقیہ ریاست جموں کشمیر و متحدہ علاقہ جات کے آئینی ابہام کو واضح کرنے کی سنجیدہ سعی کی ہے۔
بجائے اس کے ڈاکٹر نذیر گیلانی، مرحوم جسٹس عبدالمجید ملک اور رابرٹ ورسنگ کے بارے میں مجھ سے پوچھیں، درج ذیل لنک سے آپ کو
ان کے بارے میں خود معلوم کرنا چاہئے۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح، آذاد جموں کشمیر اور بقیہ جموں کشمیر و متحدہ علاقہ جات میں عوامی حاکمیت کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے ہمیں عوام کی مدد کی ضرورت ہے جبکہ گلگت بلتستان، لداخ، وادی کشمیر اور جموں کے عوام کی منشا سے مشروط طور پر،
ان تمام اکائیوں کے پاس سابقہ شاہی ریاست کے ساتھ سیاسی طور پہ رہنے یا نا رہنے کا بنیادی حق ہے لیکن اس کے لئے بھی درج ذیل شرائط ہیں
:
1)
ریاست کی تمام منقسم اکائیوں کے درمیان مذاکرات، جہاں ضروری ہوں وہاں نا اتفاقی پر بھی اتفاق ہونا چاہئے۔
2)
پاک بھارت دو طرفہ تعلقات اور اقوام متحدہ کی ریاست جموں کشمیر کے حوالہ سے ٹمپلیٹ کے دونوں میکانزمز کے اندر سے گزر کر نکلنا پڑے گا۔
بعد از مشاورت طے کیا گیا ہے کہ ریفرنڈم ایک ہی سوال پہ مشتمل ہونا چاہئے اور اس سوال کا جواب چار جوابات کے ذریعے دے سکتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔
1-ہاں
2-نہیں
3-نہیں جانتا/جانتی
4-اپنے جواب کی تفصیل (اختیاری)
جو سوال ہم آذاد جموں کشمیر کے لوگوں سے پوچھنا چاہتے ہیں (بقیہ ریاست جموں کشمیر و متحدہ علاقہ جات کے عوام بھی اس متعلق اپنی آرا دے سکتے ہیں)
کہ وہ ایک جملہ کیا ہونا چاہئے؟
اےجےکےریفرنڈم2023#
مقبول_حاکمیت#
عوامی_رائے#
پبلک_پالیسی#
جموں کشمیر و متحدہ علاقہ جات عوامی ایجنسی نوٹ:
#EU093013042023

No comments:
Post a Comment