اسلام علیکم جناب راجہ تنویر صاحب
آپ نے جو جہدو جہد
2009
میں شروع کی، قید و بند برداشت کرنا اتنا آسان نہیں اور برطانیہ جیسی آرام والی جگہ چھوڑ کر، اپنے وطن جموں وکشمیر کے لیے کام کرنا اور لوگوں کو آگاہ کرنا اور پیدل اور گاڑی پر سفر کرنا اتنا آسان نہیں۔
جیب سے خرچ کرکے آگہی لوگوں کو فراہم کرنا اتنا آسان نہیں۔
ہم آپ کو سلام پیش کرتے ہیں۔
جو جہدو جہد آپ نے اکیلے اپنے وطن کے لیے کام کیا خاص کر - اے جے کے - کے لیے، ھم کو فخر ھے۔
جناب پر واسلام۔
صاحبذادہ افتخار احمد بنی حافظ شریف ھٹیاں بالا ضلع جہلم ویلی جموں وکشمیر
۔۔۔۔
....
61) 31/03/2026 - Syed Amir Kazmi - - Working in the UAE - Daulya Jattan (Kotli)
He has already provided his review as Number 54 and the following is a response to Number 1: Dr Shams Moi-Udeen - Medical Doctor - Kotli. These reviews can be read at the following link.
بالآخر کامیابی حق کی ہو گئ۔ ظلم (باطل) نے ایک دن ختم ہونا ہے۔
میری دعا ہے اللہ پاک تنویر صاحب اور سب کو لمبی حیات دے اور جلد آپکی آنکھیں اس آزاد ریاست (جموں کشمیر ) کو حقیقی آزاد ملکیت بنتا دیکھے گئے منظور رب۔
یہ یاد رہے، یقینا اگر ہم میں کوئی بھی آنکھ پردہ نشین ہو بھی گی تو اس یقین سے جو مشن لیں کے چلے ہیں، یہ نہیں روکے گا۔ آزادی ملنے تک اس پے ہمیں یقین ہے۔
میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا: بارشوں کے موسم تنویر صاحب اکیلے اس کشمیر کے لئے جہدوجہد کرتے۔ گرمی ،سردی کی بھی پروا نہ کی۔
ایک کتاب آپ کے نام ضرور لکھی جائی گئ۔
میں آپ کی قربانیوں کو ضرور یاد گار بنانا چاہو گا۔
۔۔۔۔
....
62) 31/03/2026 - Khwaja Saleem Wani Advocate - Diwaarian, Athmaqam (Neelam Valley)
السلام علیکم۔۔تنویر صاحب کا کام تاریخی کام ہے۔ جس کی ضرورت اس خطے میں کئی عرصے سے تھی۔ لیکن اس گیپ کو فِل اس وقت صرف تنویر صاحب ہی کر رہے ہیں۔ جو لائق تحسین ہیں۔
دنیا میں پالیسیاں بنانی ہوں یا کوئی بیانیہ تشکیل دینا ہو غرض کسی بھی قسم کے اقدام کے لئے بنیادی طور پر ریسرچ میتھڈالوجی انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تنویر صاحب بخوبی جانتے ہیں کہ یہ خطہ نوآبادیاتی نظام کے تحت چلایا جا رہا ہے اور کئی دہائیوں سے یہاں کے لوگوں کے بنیادی حقوق صلب ہیں۔
اس لئے وہ دنیا کے جدید علوم / طریقہ کار کو بنیاد بنا کر یہاں کے لوگوں کی نجات اور خوشحالی کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔
اس انتہائی زمہ دارانہ تحقیقی کام میں ہمارا تعاون ان کے ساتھ ہے۔ انشاء اللہ بہت جلد ان کی محنت کے نتائج نظر آئیں گے۔
دوسری بات یہ کہ ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ یہاں جو نظام قائم ہے، آج اسے عوام سڑکوں پر بار بار چیلنج کر رہی ہے۔ یہ تاریخ میں ایسے بہت کم ہوا ہے۔ تنویر صاحب کو اس پر بھی نظر رکھنی چاہیے کہ اس نظام کے خاتمے کے لیے ایکشن کمیٹی کے فیصلہ ساز کور ممبران پر انھیں اپنی تحقیقی کام کو پہنچانا یا اثر انداز کرنا چاہیے۔ تاکہ موجودہ عوامی ابھار سے سائنسی نتائج نکالے جا سکیں۔
اس سلسلے میں ان کا رابطہ ضروری ہے۔
باقی متوازی حقیقی عوامی حکومت/ نظام کا قیام میرے خیال سے ابھی ممکن نہ ہے۔ البتہ شعوری کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔ شکریہ
خواجہ سلیم وانی ایڈووکیٹ
دواریاں/ وادئ نیلم
۔۔۔۔
۔۔۔۔
63) 31/03/2026 - Dr Khwaja Abdul Hamid - Eye Specialist - Mirpur
جموں کشمیرمیں عوامی جمہوری حکومت اور ایک مستحکم مالیاتی نظام کا قیام ایک جامع عمل ہے،جس کے لیے سیاسی، آئینی اور انتظامی سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
:عوامی جمہوری حکومت
ایک ایسی حکومت جو صحیح معنوں میں عوامی ہو، اور جموں کشمیر کی تقسیم اکائیوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرے اور مندرجہ درج ذیل ترامیم اور إصلاحات کی کوشش کرے جو کہ ناگزیر ہیں۔۔
•
: انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی
ریاستی سطح پر ایسے قوانین کا نفاذ جو شہریوں کے بنیادی حقوق بشمول آزادیِ اظہار اور احتجاج کے حق کا تحفظ کریں۔
•
:آئینی خود مختاری
عبوری آئین 1974 میں ایسی ترامیم جن کے ذریعے تمام انتظامی اور قانون سازی کے اختیارات منتخب اسمبلی کو منتقل ہوں، یعنی کہ عوام کو منتقل ھوں۔
•
: بااختیار بلدیاتی نظام
نچلی سطح پر جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے مقامی حکومتوں
(Local Governments)
کو نہ صرف منتخب کرنا بلکہ انہیں مالیاتی اور انتظامی طور پر آزاد بنانا۔
•
: شفاف انتخابات
انتخابی عمل میں ہر قسم کی بیرونی مداخلت کا خاتمہ تاکہ عوامی نمائندے کسی دباؤ کے بغیر فیصلے کر سکیں۔
•
:اپنا مالیاتی نظام قائم کرنے کے لیے اقدامات
ریاست کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے مالیاتی ڈھانچے میں تبدیلی ضروری ہے۔
•
:وسائل پر مقامی کنٹرول
پن بجلی
(Hydro-power)
سے حاصل ہونے والی رائلٹی اور نیٹ ہائیڈل پرافٹ کا براہِ راست ریاست کو ملنا، جیسا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی
(JAAC)
کے 39 نکاتی ایجنڈے میں مطالبہ کیا گیا ہے۔
•
: ٹیکسیشن میں اصلاحات
وفاقی ایڈوانس ٹیکس کے بجائے مقامی سطح پر منصفانہ ٹیکس کا نظام وضع کرنا تاکہ جمع شدہ رقم مقامی ترقی پر خرچ ہو۔
•
:اسٹیٹ بینک آف آزاد کشمیر کو بااختیار بنانا
بینک آف آزاد جموں و کشمیر کو شیڈولڈ بینک کا درجہ دلوانا اور مقامی سرمایہ کاری کے لیے اسلامک فنانسنگ جیسے مصنوعات متعارف کروانا۔
•
: سیاحت اور آئی ٹی کی صنعت
سیاحت کو ایک باقاعدہ صنعت کا درجہ دے کر اور آئی ٹی برآمدات
(IT Exports)
کے ذریعے زرمبادلہ کمانے کے مواقع پیدا کرنا۔
۔۔
ان اقدامات کا حتمی مقصد ایک ایسی ریاست کا قیام ہے جہاں عوام اپنے وسائل کے مالک ہوں اور فیصلے عوامی نمائندوں کے ذریعے کیے جائیں۔
۔۔۔۔
اسلام وعلیکم محترم تنویر احمد صاحب
آپ کی دو دہائیوں پر مشتمل جہدوجہد یقیناً ریاستی باشندوں کے لیے منزل تک پہنچنے کا راستہ فراہم کر رہا ہے۔
اب ریاستی باشندوں پر منحصر ہے کہ وہ ریاست کی وحدت اور عوامی راج قائم کرنے میں کتنے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، کیونکہ مجھے کبھی کبھی آپ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملتا رہا، جس سے میرے جیسے انسان کو آپ کے پروگرام، بلخصوص مالیاتی پروگرام جو آپ نے دیا ہے، وہ متاثر کن ہے۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں معاشی ترقی سے ہی ڈیجیٹل ترقی ممکن ہے۔ ہمیں اس کے ساتھ ساتھ انتظامی امور کے ماہرین بھی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
تعلیم کا شعبہ ہو یا میڈیکل کا، دفاعی ٹیکنالوجی اور زرعی شعبہ یا دیگر شعبوں کے لیے بھی ماہرین درکار ہوتے ہیں اور وہ آج اندرون ریاست سمیت دنیا بھر میں کسی ناں کسی شکل میں موجود ہیں۔
اگر ریاست بھر کے مخلصانہ سوچ رکھنے والے احباب
Peace Bond AJK 2025
میں شریک ہو جائیں، تو شاید جس خواب کی ابھی کوئی صورت نہیں آ رہی وہ جلد ممکن ہو جائے۔
حیدر علی ٹیپو
امیدوار برائے قانون سازی اسمبلی ایل اے 12حلقہ 5 چڑہوئی
۔۔۔۔
....
65) 01/04/2026 - Choudhary Fazl Ur Rehman - Senior Journalist - Chaahi, Smaahni (Bhimber)
جناب راجہ تنویر احمد خان
آپ کے ریسرچ پراسس، آپ کی سوچ و فکر کے فلسفیانہ مگر حقیقی تقاضوں کے تابع، اخذ شدہ روڈ میپ سے شعوری وابستگی کا سفر جاری ھے، عملی طور پر ممکن حد تک، دستیاب حالات وسائل و اوقات کار میں اکھٹے رھنے کے دوران ہر معاملہ پر سیر حاصل ڈسکشن بھی ھوتی رھی ھے۔
آپ نے ریسرچ کے سائنسی پہلوؤں اور میتھڈ سے جس طرح پیش رفت جاری رکھی ھوئی ھے، اس سے گہری بصیرت کیساتھ اک اک پہلو کو بارہا جانچ پرکھ کر اتفاق رکھا، جو طریقہ کار ایک تنظیم، ایک بڑے پلیٹ فارم کے چیلنجز کو مدنظر رکھ کر، متفقہ طور پر طویل ترین بحث مباحثے کے بعد طے کرتی، وہ ھی آپ نے ریسرچ کرتے وقت صبر آزما انداز میں کر کے، اطمینان بخش فائنڈنگ ھم سب کے سامنے رکھی ھے۔
جس پر اب تحریر رائے لینے کا عمل بھی اپنے انجام کے قریب ھے ۔۔
آپ کے تیار کردہ کو اگر یہ کہا جائے تو درست رھے گا، کہ ھمارے اس تیار کردہ ، اختیار کردہ روڈ میپ میں مشترکہ منظم و مربوط پیش رفت میں تاخیر، گویا لمحات کا نقصان بھی، ھماری قوم، ھماری مملکت کا ناقابل تلافی نقصان ھے۔ آپ نے اپنی ریسرچ میں تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا ھوا ھے، فی الوقت جہاں پہنچ کر مزید پیش قدمی کرنا ھے، میں اس سے مطمعن ھو کر شامل قافلہ اور شانہ بشانہ ھوں۔۔
ھم ملکر جو تعین کرتے چلیں گے، وہ ھمارے ملک، ھماری قوم کو وھی مقام بخشے گا، جس کا ھماری تقسیم ملک اور منقسم قوم کا عین و جائز استحقاق ھے۔۔
وسلام
چودھری فضل الرحمن آف چاھی سماہنی ضلع بھمبر ۔۔ 03556198433
۔۔۔۔
....
66) 02/04/2026 - Asad Nawaz - Political Activist - Ser Kakuta, Hajeera (Poonch)
محترم راجہ تنویر صاحب کے ساتھ سیاسی ، سماجی اور نظریاتی تعلق دو ہزار سولہ سے ہے اور اس سے پہلے محض شناسائی کی حد تک تھا۔
اس تعلق کی بنیاد نظریاتی اور فکری ہے۔ دنیا میں جتنے بھی تعلق ، رشتے، ناطے موجود ہیں، میری سمجھ کے مطابق، ان میں سب سے مضبوط، مربوط ، جینوئن اور اٹوٹ رشتہ نظریات ، سوچ اور فکر کا ہی ہوتا ہے۔
منقسم ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی کی عملی جدوجہد، ہمارا مشترکہ مقصد تھا ، ہے اور رہیگا۔
اس حوالے سے جہاں ہم سیاسی، نظریاتی جماعتوں سے وابسطہ لوگ اپنے انداز میں مصروف جدوجہد ہیں، وہیں راجہ تنویر صاحب اکیلے اپنے انداز سے یہ کام کر رہے ہیں اور مجھے یہ لکھنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہورہی، کہ جتنا ریسرچ ورک تنویر صاحب نے اکیلے کیا اور کر رہے ہیں، اتنا ساری جماعتیں اجتماعی طور پر بھی نہیں کر سکیں۔
قومی آزادی اور ملکی وحدت کی اس جدوجہد میں پاکستانی زیر قبضہ "آزاد کشمیر " میں ایک بااختیار عوامی حکومت کا قیام، بلا شبہ ریاستی وحدت اور آزادی کی طرف پہلا قدم ہے۔
عوامی حکومت کے قیام کیلئے محترم راجہ تنویر صاحب کے کئی ویلاگز اور تحریریں موجود ہیں، جنکے اندر عوامی حکومت کے قیام کا تصور، اسکا طریقہ کار اور میکانزم دیا گیا ہے۔ ان ساری چیزوں کے تفاصیل میں جائے بغیر انکے ساتھ مکمل اتفاق کیا جاتا ہے۔
اسکے ساتھ ساتھ ہم اپنا نکتہ نظر بھی شامل کرتے ہیں کہ انفرادی طور پر راجہ تنویر صاحب کی جدوجہد، اس وقت تک ثمر آور اور حتمی منزل تک نہیں پہنچ سکتی، جب تک اجتماعی طور پر ہم اس جدوجہد کا حصہ نہیں بنتے اور ہر شخص اپنے حصے کا کام اسی محنت ، لگن اور دیانتداری کے ساتھ پورا نہیں کرتا۔
ملکوں اور قوموں کی آزادی کی تحریکوں کا مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ایسے نظریات اور افکار کو تنظیمی شکل دیکر ایک ایسی تنظیم کی تعمیر لازمی اور بنیادی شرط ہے، جو تنظیم کے ریاست کے اندر ایک ریاست ہو، جسکا اپنا بجٹ ، جسکے ریاست کے متوازی اپنے ادارے اور ڈھانچے ہوں ، جو عوام کو مسلسل ایجوکیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ انکو حتمی اور فیصلہ کن لڑائی کیلئے تیار کرسکے۔
دنیا کے موجودہ حالات بھی ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ موجودہ قبضہ گیری کا نظام جس طرح اپنی وحشت اور بربریت کو دنیا بھر میں پھیلا رہا ہے، اسکو روکنے اور انسانوں کو اس کے شر سے بچانے کیلئے مقامی و قومی سطح کی تنظیم سے لیکر، ایک عالمی سطح کی تنظیم کی ضرورت جتنی آج ہے، شاید پہلے کبھی نہ تھی۔
ہم چونکہ تیسری دنیا کے لوگ ہیں اور ہماری زمہ داریاں جتنی زیادہ ہیں، اتنی ہی ہمارے لئیے مشکلات بھی زیادہ ہیں لہذا اپنی بساط کے مطابق، ہمارا بنیادی کام وہی بنتا ہے جو محترم تنویر صاحب گزشتہ دو دہائیوں سے کر رہے ہیں۔
ہم نے ماضی میں بھی انکے کام کو نہ صرف سراہا بلکہ ممکنہ حد تک اس میں، کم ہی سہی، لیکن حصہ داری کی کوشش کرتے رہے اور اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں، کہ آئیندہ بھی جب تک سانس میں سانس ہے، اس عظیم جدوجہد میں شامل رہینگے اور ہمارے زمہ جو ڈیوٹی لگائی جائے گی، اسکو پورا کرنے کی کوشش کرینگے ۔
اسد نواز
ہجیرہ ۔ ضلع پونچھ
(POJK)
03558287814
۔۔۔۔
....
67) 03/04/2026 - Commander Farooq Khan - Political Activist & Agriculturist - Sudhan Gali, Birpani (Bagh)
اسلام عیلکم راجا تنویر صاحب
اپ کی جدوجہد نے وہ شعور دیا جس کی وجہ سے اج عوام بے خوف ہو کر اپنے حقوق کی بات کرتی ہے۔
پہلا خوف کا بت جناب نے جھنڈا کیس سے توڑا، ساتھ پھر سروے رپورٹ نے عوام کو ایک ہمت دی۔
میں سلام پیش کرتا ہے کہ جناب نے اکیلے قوم کو قومی شعور سے آشنا کیا۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جدوجہد کے ثمرات لیے جاہیں۔
سب سے پہلے واڈ سطح سے عوام کو منظم کر کہ یونین کونسل، تحصیل، ضلع، ڈویزن پھر مرکز میں بندے منتخب کیے جاہیں۔
،ایک مکمل نظام حکومت عوام کے سامنے رکھا جاے، جس میں سب سے پہلے وہ معاشی نظام ایسے ترتیب دیا جاے
جس سے قوم امدنی کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی مستفید کرے، تا کہ عوام کا انٹرسٹ بڑھے۔
جب تک معاشی نظام بہتر نہ ہو گا، اگے بڑھنا مشکل ہوتا ہے۔
معیشت کے لیے ہمارے اس خطے میں زراعت، ڈیری، سیاحت، مال مُويشی پہ بڑے پیمانے پہ کام ہو سکتا ہے۔
سیاسی پروگرام بھی ایسے ہوں کہ جو اپنی ریاست کی وحدت کی بحالی اور حقوق کی بازیابی کو مدنظر رکھتے ہوے بنائے جائے۔ سفارتی محاذ بھی ایک ٹول ہوتا ہے جو دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور کس طرح دنیا سے اپنے مفادات محفوظ کرتے ہیں۔
۔۔
فاروق خان ضلع باغ تحصیل بیرپانی موضہ سدھن گلی ایل اے ٢وسطی باغ
۔۔۔۔
....
68) 03/04/2026 - Khwaja Sohail - Political Activist - Amb, Dadyaal (Mirpur)
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
تنویر صاحب سے ہماری وابستگی ڈڈیال جھنڈا کیس سے شروع ہوی۔
آج جو عام عوام، نوجوان شعوری طور پر جس سوچ پر گامزن ہے اس میں تنویر صاحب کی فکری اور عملی جدوجہد شامل ہے۔
مستقل مزاجی کسی بھی جدوجہد کو منزل تک پہنچا سکتی ہے اور اجتماعی سوچ کو آگے لے کر بڑھنے کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔
....
69) 03/04/2026 - Muhammad Shehzad - Public Relations Officer - Bagh
تنویر صاحب کی جدوجہد محض ایک سروے نہیں بلکہ ایک فکری دیانت اور عملی جرات کی مثال ہے۔
انہوں نے مشکل ترین حالات میں کشمیر کے دور دراز علاقوں تک رسائی حاصل کر کے عوام کی اصل آواز کو سمجھنے اور سامنے لانے کی کوشش کی۔
ان کا اندازِ تحقیق پیشہ ورانہ ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقت پسندانہ بھی تھا، جس نے محض بیانیے نہیں بلکہ زمینی حقائق کو اہمیت دی۔
آج کے عالمی منظرنامے میں، جہاں طاقتور ریاستیں اپنے مفادات کے تحت وسائل اور خطوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں، اور مقامی سطح پر سطحی سوچ سنجیدہ نظریاتی کاوشوں کو دبا رہی ہے، تنویر صاحب کا کام ایک روشن مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔
یہ نہ صرف ایک تحقیق ہے بلکہ ایک ایسا فریم ورک ہے جو سنجیدہ فکر، دیانتدار مکالمے اور عوامی رائے کی حقیقی ترجمانی کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
تنویر صاحب کی اس کاوش کو خراجِ تحسین پیش کرنا دراصل سچائی، محنت اور فکری دیانت کو خراج پیش کرنا ہے۔
۔۔۔۔
....
70) 03/04/2026 - Saajid Jarral - Political Activist & Lawyer - New City, Mirpur
السلام علیکم
پبلک کمیشن ازاد جموں وکشمیر
محقق کشمیر تنویر احمد صاحب، جنہوں نے گزشتہ تقریبا 21 سال سے اپنی پراسائش زندگی کو ٹھکرا کر خالصتا ریاست جموں و کشمیر کے مسئلے پر کام کیا اور وہ کام کیا جو اج تک کسی سیاسی جماعت تنظیم یا کوئی پارٹی نہ کر سکی، مثلاً( عوامی رائے اور عوامی ڈیٹا)جس سے حقیقی معنوں میں ریاست کے اندرونے بیانیے کو واضح کیا گیا ہے۔
بلاشبہ تنویر احمد صاحب کی تحقیق، فکر اور دانشمندی ریاست کے ہر باشعور، دیانتدار، غیرت مند اور جرات مند کے لیے منقسم ریاست کی واحدت کے لیے، کیے جانے والے عملی اقدامات کے لیے نہایت ناگزیر ہے۔
جس کے تحت ایک بااختیار اور باوقار عوامی حکومت کا قیام ممکن ہے جو کے اے جے کے میں قائم کر کے آذادی کی پہلی ضروری سیڑھی کا کام کرسکتی ہے۔
جس کے لیے تنویر احمد صاحب کا معاشی پروگرام بہترین اور نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
میں ایڈووکیٹ محمد ساجد پوری قوم کی طرف سے جناب کی امانتداری، دیانتداری، سچی لگن، نیک نیتی، جرات اور بہادری کا مشکور ہوں۔ شکریہ
۔۔۔۔
....
71) 06/04/2026 - Atif Maqbool - Media & Network Analyst - Leepa (Jhelum Valley)
! تنویر احمد صاحب
آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے میری توجہ اس عظیم اور فکری طور پر نہایت اہم منصوبے کی جانب مبذول کروائی۔
میں اس امر کا بھی معترف ہوں کہ آپ نے اس پروجیکٹ پر دو دہائیوں سے زائد عرصہ مسلسل محنت کی، سنجیدگی سے غور و فکر کیا اور اپنی قوم کے بہتر مستقبل کے لیے ایک واضح اور مربوط فکری و عملی خاکہ پیش کیا۔
بلاشبہ آپ کی یہ کاوش کشمیری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے اور میں کشمیری قوم کی طرف سے آپ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
میں نے آپ کی تمام تحریروں کا بغور مطالعہ کیا۔ عوامی حکومت کے قیام کے لیے آپ نے جو ماڈیول، طریقہ کار اور نظریاتی بنیاد پیش کی ہے، وہ نہایت قابلِ توجہ اور سنجیدہ مکالمے کی متقاضی ہے۔
یہ ایک ایسی سوچ ہے جو ایک آزاد ذہن رکھنے والا، باشعور اور تعلیم یافتہ فرد ہی پیش کر سکتا ہے۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے کشمیر میں ایسے صاحبِ فکر لوگ موجود ہیں جو ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر اجتماعی مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں۔
مزید برآں، میں نے ایک اہم پہلو یہ بھی محسوس کیا کہ تاحال آزاد جموں و کشمیر پبلک کمیشن اور عوامی نمائندگی کے موجودہ ڈھانچے، اس سوچ اور وژن کی اس سطح پر مکمل عکاسی نہیں کر پا رہے جس انداز میں کرنی چاہیے۔ میری رائے میں اس فکر اور مواد کو ہر کشمیری تک پہنچنا چاہیے، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے مزید سادہ، واضح اور عام فہم زبان میں پیش کیا جائے، تاکہ عام عوام بھی اس کے مثبت اور ممکنہ منفی اثرات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
جب یہ بحث عوامی سطح پر وسعت اختیار کرے گی تو اس اہم مقصد کے عملی طور پر آگے بڑھنے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
آپ کی یہ کوشش کہ یہاں کے لوگوں کو اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت ایک منظم حکومتی نظام اور مؤثر ادارہ جاتی ڈھانچے کی طرف لایا جائے، میرے نزدیک نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے۔ ایسے نظریات اور عملی تجاویز پر سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے، اور ہر باشعور کشمیری کو اس عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔
جب یہ خیالات مزید بہتر انداز میں عوام کے سامنے آئیں گے تو یقیناً بہت سے پہلو مزید واضح ہوں گے، اصلاح کی گنجائش پیدا ہو گی، اور بہتری کی طرف راستہ نکلے گا۔
میں آپ کی اس علمی، فکری اور قومی خدمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ اسی جذبے اور سنجیدگی کے ساتھ اس مشن کو آگے بڑھاتے رہیں گے، تاکہ کشمیری قوم کو ایک بہتر، منصفانہ اور باوقار مستقبل کی سمت رہنمائی میسر آ سکے۔
۔۔۔۔
....
72) 07/04/2026 - Ejaz Ul Hassan Khan Raja - Banking & Finance Expert - Dheerkot (Bagh)
یہ منصوبہ ایک مثبت اور باوقار وژن رکھتا ہے، تاہم اس کی مؤثر عملداری کے لیے چند عملی اقدامات تجویز کیے جا سکتے ہیں۔
سب سے پہلے، منافع کی شرح کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر استوار کیا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط ہو سکے۔
No comments:
Post a Comment