تنویر احمد صاحب نے جو ریاضت کی ہے اپنی ماں دھرتی کے لیے اور جو دو عشروں پہ مشتمل تحقیقی کام ہے ان کا، وہ یقیناً ایک ایسا تاریخی اور منفرد کام ہے، کہ جو ریاست میں کسی اور کے حصے میں نہیں گیا۔ ایک ایسے سماج میں کہ جہاں لوگ رائے دینے سے ہچکچاتے ہیں، ایک ایسے معاشرے میں کہ جہاں لوگ قدامت پرست ہیں۔ ایک ایسے معاشرے میں کہ جہاں لوگوں پہ میڈیا کے ذریعے، نظام تعلیم کے ذریعے اور پورے ایک جو سوسائٹی کا بالائی ڈانچہ ہے، اس کے ذریعے ان کے اوپینن میکنگ (رائے عامہ ہموار کرنے) کے لیے بقائدہ منصوبہ بندی ہوتی ہے، انویسٹمنٹ ہوتی ہے۔
ایسے معاشرے میں ایک ایسا سروے سامنے لانا اور وہ اتنا ترانسپیرنٹ (شفاف) ہونا کہ کسی بھی انٹرنیشنل سروے کے جو تقاضے اور اصول ہیں، وہ ان سے مطابقت رکھتا ہو۔ یہ یقیناً جان جوکھو کا کام تھا اور اس راستے میں کتنی تکلیفیں سہنی پڑی تنویر صاحب کو، یہ وہی جانتے ہیں۔ یہ کمال کا کام ہے! بہت کمال کا کام ہے اور اس کمال کا جو سب سے بڑا اظہار ہے: وہ دس ازار لوگوں پہ مشتمل وہ سروے رپورٹ شائع کرنا ہے، جس میں 73% لوگوں نے واضح طور پر یہ رائے دی کہ وہ اپنی دھرتی ماں کی شناخت چاہتے ہیں۔
وہ عوامی راج چاہتے ہیں اور وہ اپنی شناخت کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اتنی ساری پابندیوں کے باوجود لوگوں کی اس رائے کو سامنے لانا، یہ بہت بڑا کمال کا کام ہے۔ یہ ایسے وقت میں تنویر صاحب نے کام کیا جب معاشرے میں جمود جیسی کیفیت تھی۔ پچھلے دو تین چار سال سے یہ جمود ٹوٹا ہے اور لوگ کھل کے رائے دینا شروع ہو گئے ہیں لیکن تنویر صاحب نے ایک ایسے وقت میں یہ رائے سامنے لائی کہ جب رائے لینے اور دینے کا رواج موجود نہیں تھا۔
اس کمال کے کام کو آگے بڑھتے رہنا چاہئے اور بالخصوص جو عوامی سطح پر نچلی سطحوں پر عوامی رائے کے ذریعے یہاں عوامی حکومت کے قیام کی ان کی جدوجہد ہے، بلا شبہ اس پر یہاں جو ورکنگ تنویر صاحب نے کی ہے، وہ بھی منفرد ہے۔ ابھی شاید ہمارا معاشرہ وہاں نہیں پہنچ پایا جہاں تنویر صاحب کی سوچ اور اپروچ ہے۔
بہرحال جن لوگوں نے تاریخ ساز کام کیے ہیں، ان کی زندگی میں ان کے نتائج بسا اوقات نہیں آتے۔ اگرچہ ہم پر امید ہیں کہ تنویر صاحب جیسا طاقتور و طوانہ آدمی، بیدار مغز آدمی، جاندیدہ آدمی، وہ اپنی زندگی میں ہی انشاءاللہ اس کے نتائج دیکھے گا۔ البتہ یہ وہ منفرد کام ہے جو تنویر صاحب ہی کے حصے میں آیا ہے۔
امید کی جا سکتی ہے کہ یہ جو ریاضت انہیں نے کی ہے، یہ جو جانفشانی سے کام کیا ہے، جس لگن کے ساتھ، بلکہ میں کہتا ہوں عشق میں ڈوب کے جو کام کیا گیا ہے، یہ کام نتیجہ خیز ہوگا اور بسا اوقات جس سطح کے اوپر آپ کو نظر آرہا ہوتا ہے: کہ چیزوں کی پذیرائی نہیں مل رہی یا چیزیں آگے نہیں بڑھ رہی تو حالات کا بدلاؤ اس طرح بھی ہو جاتا ہے، کہ بسا اوقات عشرو کا کام لمحوں میں ہو جاتا ہے۔
ایک جست (جان) آ جاتی ہے اس میں۔ اس جست کی امید ہم تنویر صاحب سے کر سکتے ہیں۔ ان کو ہم اپریشیٹ بھی کرتے ہیں۔ ان کے کام کوسراہتے بھی ہیں اور اس یقین اور امید کے ساتھ: کہ ان کے اس کام میں وہ نتیجہ ضرور آئے گا، جس پہ انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کیا ہے۔ اپنی آسائِشے قربان کی ہیں، اپنی فیملی قربان کی ہے اور اپنی زندگی کو اذیت میں ڈالی ہے، تقلیفیں اور مصیبتیں برداشت کی ہیں۔
اور مسلسل یہ ریاضت وہ کر رہے ہیں۔ تو امید کی جا سکتی ہے، بلکہ یقین کامل ہے کہ یہ کام ضرور نتیجہ خیز ہوگا اوراس کے نتائج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔
۔۔۔۔
میرا سوال یہ ہے کہ موجودہ نظام حکومت کو تبدیل یا ختم کرنے کا روڈ میپ کیا ہے؟
My response on the same date viz. 18/03/2026 was equally brief and self-evident:
روڈ میپ اسی تحریر میں ہے۔ چار سٹیپس پر غور کریں۔
۔۔۔۔
....
اسلام علیکم جناب راجہ تنویر صاحب
آپ نے جو جہدو جہد
2009
میں شروع کی، قید و بند برداشت کرنا اتنا آسان نہیں اور برطانیہ جیسی آرام والی جگہ چھوڑ کر، اپنے وطن جموں وکشمیر کے لیے کام کرنا اور لوگوں کو آگاہ کرنا اور پیدل اور گاڑی پر سفر کرنا اتنا آسان نہیں۔
جیب سے خرچ کرکے آگہی لوگوں کو فراہم کرنا اتنا آسان نہیں۔
ہم آپ کو سلام پیش کرتے ہیں۔
جو جہدو جہد آپ نے اکیلے اپنے وطن کے لیے کام کیا خاص کر - اے جے کے - کے لیے، ھم کو فخر ھے۔
جناب پر واسلام۔
صاحبذادہ افتخار احمد بنی حافظ شریف ھٹیاں بالا ضلع جہلم ویلی جموں وکشمیر
۔۔۔۔
....
*(54) 31/03/2026 - Syed Amir Kazmi - - Working in the UAE - Daulya Jattan (Kotli)
*He has already provided his review as Number 54 and the following is a response to Number 1: Dr Shams Moi-Udeen - Medical Doctor - Kotli. These reviews can be read at the following link.
بالآخر کامیابی حق کی ہو گئ۔ ظلم (باطل) نے ایک دن ختم ہونا ہے۔
میری دعا ہے اللہ پاک تنویر صاحب اور سب کو لمبی حیات دے اور جلد آپکی آنکھیں اس آزاد ریاست (جموں کشمیر ) کو حقیقی آزاد ملکیت بنتا دیکھے گئے منظور رب۔
یہ یاد رہے، یقینا اگر ہم میں کوئی بھی آنکھ پردہ نشین ہو بھی گی تو اس یقین سے جو مشن لیں کے چلے ہیں، یہ نہیں روکے گا۔ آزادی ملنے تک اس پے ہمیں یقین ہے۔
میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا: بارشوں کے موسم تنویر صاحب اکیلے اس کشمیر کے لئے جہدوجہد کرتے۔ گرمی ،سردی کی بھی پروا نہ کی۔
ایک کتاب آپ کے نام ضرور لکھی جائی گئ۔
میں آپ کی قربانیوں کو ضرور یاد گار بنانا چاہو گا۔
۔۔۔۔
....
62) 31/03/2026 - Khwaja Saleem Wani Advocate - Diwaarian, Athmaqam (Neelam Valley)
السلام علیکم۔۔تنویر صاحب کا کام تاریخی کام ہے۔ جس کی ضرورت اس خطے میں کئی عرصے سے تھی۔ لیکن اس گیپ کو فِل اس وقت صرف تنویر صاحب ہی کر رہے ہیں۔ جو لائق تحسین ہیں۔
دنیا میں پالیسیاں بنانی ہوں یا کوئی بیانیہ تشکیل دینا ہو غرض کسی بھی قسم کے اقدام کے لئے بنیادی طور پر ریسرچ میتھڈالوجی انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تنویر صاحب بخوبی جانتے ہیں کہ یہ خطہ نوآبادیاتی نظام کے تحت چلایا جا رہا ہے اور کئی دہائیوں سے یہاں کے لوگوں کے بنیادی حقوق صلب ہیں۔
اس لئے وہ دنیا کے جدید علوم / طریقہ کار کو بنیاد بنا کر یہاں کے لوگوں کی نجات اور خوشحالی کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔
اس انتہائی زمہ دارانہ تحقیقی کام میں ہمارا تعاون ان کے ساتھ ہے۔ انشاء اللہ بہت جلد ان کی محنت کے نتائج نظر آئیں گے۔
دوسری بات یہ کہ ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ یہاں جو نظام قائم ہے، آج اسے عوام سڑکوں پر بار بار چیلنج کر رہی ہے۔ یہ تاریخ میں ایسے بہت کم ہوا ہے۔ تنویر صاحب کو اس پر بھی نظر رکھنی چاہیے کہ اس نظام کے خاتمے کے لیے ایکشن کمیٹی کے فیصلہ ساز کور ممبران پر انھیں اپنی تحقیقی کام کو پہنچانا یا اثر انداز کرنا چاہیے۔ تاکہ موجودہ عوامی ابھار سے سائنسی نتائج نکالے جا سکیں۔
اس سلسلے میں ان کا رابطہ ضروری ہے۔
باقی متوازی حقیقی عوامی حکومت/ نظام کا قیام میرے خیال سے ابھی ممکن نہ ہے۔ البتہ شعوری کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔ شکریہ
خواجہ سلیم وانی ایڈووکیٹ
دواریاں/ وادئ نیلم
۔۔۔۔
۔۔۔۔
63) 31/03/2026 - Dr Khwaja Abdul Hamid - Eye Specialist - Mirpur
جموں کشمیرمیں عوامی جمہوری حکومت اور ایک مستحکم مالیاتی نظام کا قیام ایک جامع عمل ہے،جس کے لیے سیاسی، آئینی اور انتظامی سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
:عوامی جمہوری حکومت
ایک ایسی حکومت جو صحیح معنوں میں عوامی ہو، اور جموں کشمیر کی تقسیم اکائیوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرے اور مندرجہ درج ذیل ترامیم اور إصلاحات کی کوشش کرے جو کہ ناگزیر ہیں۔۔
•
: انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی
ریاستی سطح پر ایسے قوانین کا نفاذ جو شہریوں کے بنیادی حقوق بشمول آزادیِ اظہار اور احتجاج کے حق کا تحفظ کریں۔
•
:آئینی خود مختاری
عبوری آئین 1974 میں ایسی ترامیم جن کے ذریعے تمام انتظامی اور قانون سازی کے اختیارات منتخب اسمبلی کو منتقل ہوں، یعنی کہ عوام کو منتقل ھوں۔
•
: بااختیار بلدیاتی نظام
نچلی سطح پر جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے مقامی حکومتوں
(Local Governments)
کو نہ صرف منتخب کرنا بلکہ انہیں مالیاتی اور انتظامی طور پر آزاد بنانا۔
•
: شفاف انتخابات
انتخابی عمل میں ہر قسم کی بیرونی مداخلت کا خاتمہ تاکہ عوامی نمائندے کسی دباؤ کے بغیر فیصلے کر سکیں۔
•
:اپنا مالیاتی نظام قائم کرنے کے لیے اقدامات
ریاست کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے مالیاتی ڈھانچے میں تبدیلی ضروری ہے۔
•
:وسائل پر مقامی کنٹرول
پن بجلی
(Hydro-power)
سے حاصل ہونے والی رائلٹی اور نیٹ ہائیڈل پرافٹ کا براہِ راست ریاست کو ملنا، جیسا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی
(JAAC)
کے 39 نکاتی ایجنڈے میں مطالبہ کیا گیا ہے۔
•
: ٹیکسیشن میں اصلاحات
وفاقی ایڈوانس ٹیکس کے بجائے مقامی سطح پر منصفانہ ٹیکس کا نظام وضع کرنا تاکہ جمع شدہ رقم مقامی ترقی پر خرچ ہو۔
•
:اسٹیٹ بینک آف آزاد کشمیر کو بااختیار بنانا
بینک آف آزاد جموں و کشمیر کو شیڈولڈ بینک کا درجہ دلوانا اور مقامی سرمایہ کاری کے لیے اسلامک فنانسنگ جیسے مصنوعات متعارف کروانا۔
•
: سیاحت اور آئی ٹی کی صنعت
سیاحت کو ایک باقاعدہ صنعت کا درجہ دے کر اور آئی ٹی برآمدات
(IT Exports)
کے ذریعے زرمبادلہ کمانے کے مواقع پیدا کرنا۔
۔۔
ان اقدامات کا حتمی مقصد ایک ایسی ریاست کا قیام ہے جہاں عوام اپنے وسائل کے مالک ہوں اور فیصلے عوامی نمائندوں کے ذریعے کیے جائیں۔
۔۔۔۔
اسلام وعلیکم محترم تنویر احمد صاحب
آپ کی دو دہائیوں پر مشتمل جہدوجہد یقیناً ریاستی باشندوں کے لیے منزل تک پہنچنے کا راستہ فراہم کر رہا ہے۔
اب ریاستی باشندوں پر منحصر ہے کہ وہ ریاست کی وحدت اور عوامی راج قائم کرنے میں کتنے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، کیونکہ مجھے کبھی کبھی آپ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملتا رہا، جس سے میرے جیسے انسان کو آپ کے پروگرام، بلخصوص مالیاتی پروگرام جو آپ نے دیا ہے، وہ متاثر کن ہے۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں معاشی ترقی سے ہی ڈیجیٹل ترقی ممکن ہے۔ ہمیں اس کے ساتھ ساتھ انتظامی امور کے ماہرین بھی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
تعلیم کا شعبہ ہو یا میڈیکل کا، دفاعی ٹیکنالوجی اور زرعی شعبہ یا دیگر شعبوں کے لیے بھی ماہرین درکار ہوتے ہیں اور وہ آج اندرون ریاست سمیت دنیا بھر میں کسی ناں کسی شکل میں موجود ہیں۔
اگر ریاست بھر کے مخلصانہ سوچ رکھنے والے احباب
Peace Bond AJK 2025
میں شریک ہو جائیں، تو شاید جس خواب کی ابھی کوئی صورت نہیں آ رہی وہ جلد ممکن ہو جائے۔
حیدر علی ٹیپو
امیدوار برائے قانون سازی اسمبلی ایل اے 12حلقہ 5 چڑہوئی
۔۔۔۔
....
65) 01/04/2026 - Choudhary Fazl Ur Rehman - Senior Journalist - Chaahi, Smaahni (Bhimber)
جناب راجہ تنویر احمد خان
آپ کے ریسرچ پراسس، آپ کی سوچ و فکر کے فلسفیانہ مگر حقیقی تقاضوں کے تابع، اخذ شدہ روڈ میپ سے شعوری وابستگی کا سفر جاری ھے، عملی طور پر ممکن حد تک، دستیاب حالات وسائل و اوقات کار میں اکھٹے رھنے کے دوران ہر معاملہ پر سیر حاصل ڈسکشن بھی ھوتی رھی ھے۔
آپ نے ریسرچ کے سائنسی پہلوؤں اور میتھڈ سے جس طرح پیش رفت جاری رکھی ھوئی ھے، اس سے گہری بصیرت کیساتھ اک اک پہلو کو بارہا جانچ پرکھ کر اتفاق رکھا، جو طریقہ کار ایک تنظیم، ایک بڑے پلیٹ فارم کے چیلنجز کو مدنظر رکھ کر، متفقہ طور پر طویل ترین بحث مباحثے کے بعد طے کرتی، وہ ھی آپ نے ریسرچ کرتے وقت صبر آزما انداز میں کر کے، اطمینان بخش فائنڈنگ ھم سب کے سامنے رکھی ھے۔
جس پر اب تحریر رائے لینے کا عمل بھی اپنے انجام کے قریب ھے ۔۔
آپ کے تیار کردہ کو اگر یہ کہا جائے تو درست رھے گا، کہ ھمارے اس تیار کردہ ، اختیار کردہ روڈ میپ میں مشترکہ منظم و مربوط پیش رفت میں تاخیر، گویا لمحات کا نقصان بھی، ھماری قوم، ھماری مملکت کا ناقابل تلافی نقصان ھے۔ آپ نے اپنی ریسرچ میں تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا ھوا ھے، فی الوقت جہاں پہنچ کر مزید پیش قدمی کرنا ھے، میں اس سے مطمعن ھو کر شامل قافلہ اور شانہ بشانہ ھوں۔۔
ھم ملکر جو تعین کرتے چلیں گے، وہ ھمارے ملک، ھماری قوم کو وھی مقام بخشے گا، جس کا ھماری تقسیم ملک اور منقسم قوم کا عین و جائز استحقاق ھے۔۔
وسلام
چودھری فضل الرحمن آف چاھی سماہنی ضلع بھمبر ۔۔ 03556198433
۔۔۔۔
....
66) 02/04/2026 - Asad Nawaz - Political Activist - Ser Kakuta, Hajeera (Poonch)
محترم راجہ تنویر صاحب کے ساتھ سیاسی ، سماجی اور نظریاتی تعلق دو ہزار سولہ سے ہے اور اس سے پہلے محض شناسائی کی حد تک تھا۔
اس تعلق کی بنیاد نظریاتی اور فکری ہے۔ دنیا میں جتنے بھی تعلق ، رشتے، ناطے موجود ہیں، میری سمجھ کے مطابق، ان میں سب سے مضبوط، مربوط ، جینوئن اور اٹوٹ رشتہ نظریات ، سوچ اور فکر کا ہی ہوتا ہے۔
منقسم ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی کی عملی جدوجہد، ہمارا مشترکہ مقصد تھا ، ہے اور رہیگا۔
اس حوالے سے جہاں ہم سیاسی، نظریاتی جماعتوں سے وابسطہ لوگ اپنے انداز میں مصروف جدوجہد ہیں، وہیں راجہ تنویر صاحب اکیلے اپنے انداز سے یہ کام کر رہے ہیں اور مجھے یہ لکھنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہورہی، کہ جتنا ریسرچ ورک تنویر صاحب نے اکیلے کیا اور کر رہے ہیں، اتنا ساری جماعتیں اجتماعی طور پر بھی نہیں کر سکیں۔
قومی آزادی اور ملکی وحدت کی اس جدوجہد میں پاکستانی زیر قبضہ "آزاد کشمیر " میں ایک بااختیار عوامی حکومت کا قیام، بلا شبہ ریاستی وحدت اور آزادی کی طرف پہلا قدم ہے۔
عوامی حکومت کے قیام کیلئے محترم راجہ تنویر صاحب کے کئی ویلاگز اور تحریریں موجود ہیں، جنکے اندر عوامی حکومت کے قیام کا تصور، اسکا طریقہ کار اور میکانزم دیا گیا ہے۔ ان ساری چیزوں کے تفاصیل میں جائے بغیر انکے ساتھ مکمل اتفاق کیا جاتا ہے۔
اسکے ساتھ ساتھ ہم اپنا نکتہ نظر بھی شامل کرتے ہیں کہ انفرادی طور پر راجہ تنویر صاحب کی جدوجہد، اس وقت تک ثمر آور اور حتمی منزل تک نہیں پہنچ سکتی، جب تک اجتماعی طور پر ہم اس جدوجہد کا حصہ نہیں بنتے اور ہر شخص اپنے حصے کا کام اسی محنت ، لگن اور دیانتداری کے ساتھ پورا نہیں کرتا۔
ملکوں اور قوموں کی آزادی کی تحریکوں کا مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ایسے نظریات اور افکار کو تنظیمی شکل دیکر ایک ایسی تنظیم کی تعمیر لازمی اور بنیادی شرط ہے، جو تنظیم کے ریاست کے اندر ایک ریاست ہو، جسکا اپنا بجٹ ، جسکے ریاست کے متوازی اپنے ادارے اور ڈھانچے ہوں ، جو عوام کو مسلسل ایجوکیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ انکو حتمی اور فیصلہ کن لڑائی کیلئے تیار کرسکے۔
دنیا کے موجودہ حالات بھی ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ موجودہ قبضہ گیری کا نظام جس طرح اپنی وحشت اور بربریت کو دنیا بھر میں پھیلا رہا ہے، اسکو روکنے اور انسانوں کو اس کے شر سے بچانے کیلئے مقامی و قومی سطح کی تنظیم سے لیکر، ایک عالمی سطح کی تنظیم کی ضرورت جتنی آج ہے، شاید پہلے کبھی نہ تھی۔
ہم چونکہ تیسری دنیا کے لوگ ہیں اور ہماری زمہ داریاں جتنی زیادہ ہیں، اتنی ہی ہمارے لئیے مشکلات بھی زیادہ ہیں لہذا اپنی بساط کے مطابق، ہمارا بنیادی کام وہی بنتا ہے جو محترم تنویر صاحب گزشتہ دو دہائیوں سے کر رہے ہیں۔
ہم نے ماضی میں بھی انکے کام کو نہ صرف سراہا بلکہ ممکنہ حد تک اس میں، کم ہی سہی، لیکن حصہ داری کی کوشش کرتے رہے اور اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں، کہ آئیندہ بھی جب تک سانس میں سانس ہے، اس عظیم جدوجہد میں شامل رہینگے اور ہمارے زمہ جو ڈیوٹی لگائی جائے گی، اسکو پورا کرنے کی کوشش کرینگے ۔
اسد نواز
ہجیرہ ۔ ضلع پونچھ
(POJK)
03558287814
۔۔۔۔
....
67) 03/04/2026 - Commander Farooq Khan - Political Activist & Agriculturist - Sudhan Gali, Birpani (Bagh)
اسلام عیلکم راجا تنویر صاحب
اپ کی جدوجہد نے وہ شعور دیا جس کی وجہ سے اج عوام بے خوف ہو کر اپنے حقوق کی بات کرتی ہے۔
پہلا خوف کا بت جناب نے جھنڈا کیس سے توڑا، ساتھ پھر سروے رپورٹ نے عوام کو ایک ہمت دی۔
میں سلام پیش کرتا ہے کہ جناب نے اکیلے قوم کو قومی شعور سے آشنا کیا۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جدوجہد کے ثمرات لیے جاہیں۔
سب سے پہلے واڈ سطح سے عوام کو منظم کر کہ یونین کونسل، تحصیل، ضلع، ڈویزن پھر مرکز میں بندے منتخب کیے جاہیں۔
،ایک مکمل نظام حکومت عوام کے سامنے رکھا جاے، جس میں سب سے پہلے وہ معاشی نظام ایسے ترتیب دیا جاے
جس سے قوم امدنی کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی مستفید کرے، تا کہ عوام کا انٹرسٹ بڑھے۔
جب تک معاشی نظام بہتر نہ ہو گا، اگے بڑھنا مشکل ہوتا ہے۔
معیشت کے لیے ہمارے اس خطے میں زراعت، ڈیری، سیاحت، مال مُويشی پہ بڑے پیمانے پہ کام ہو سکتا ہے۔
سیاسی پروگرام بھی ایسے ہوں کہ جو اپنی ریاست کی وحدت کی بحالی اور حقوق کی بازیابی کو مدنظر رکھتے ہوے بنائے جائے۔ سفارتی محاذ بھی ایک ٹول ہوتا ہے جو دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور کس طرح دنیا سے اپنے مفادات محفوظ کرتے ہیں۔
۔۔
فاروق خان ضلع باغ تحصیل بیرپانی موضہ سدھن گلی ایل اے ٢وسطی باغ
۔۔۔۔
....
68) 03/04/2026 - Khwaja Sohail - Political Activist - Amb, Dadyaal (Mirpur)
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
تنویر صاحب سے ہماری وابستگی ڈڈیال جھنڈا کیس سے شروع ہوی۔
آج جو عام عوام، نوجوان شعوری طور پر جس سوچ پر گامزن ہے اس میں تنویر صاحب کی فکری اور عملی جدوجہد شامل ہے۔
مستقل مزاجی کسی بھی جدوجہد کو منزل تک پہنچا سکتی ہے اور اجتماعی سوچ کو آگے لے کر بڑھنے کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔
....
69) 03/04/2026 - Muhammad Shehzad - Public Relations Officer - Bagh
تنویر صاحب کی جدوجہد محض ایک سروے نہیں بلکہ ایک فکری دیانت اور عملی جرات کی مثال ہے۔
انہوں نے مشکل ترین حالات میں کشمیر کے دور دراز علاقوں تک رسائی حاصل کر کے عوام کی اصل آواز کو سمجھنے اور سامنے لانے کی کوشش کی۔
ان کا اندازِ تحقیق پیشہ ورانہ ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقت پسندانہ بھی تھا، جس نے محض بیانیے نہیں بلکہ زمینی حقائق کو اہمیت دی۔
آج کے عالمی منظرنامے میں، جہاں طاقتور ریاستیں اپنے مفادات کے تحت وسائل اور خطوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں، اور مقامی سطح پر سطحی سوچ سنجیدہ نظریاتی کاوشوں کو دبا رہی ہے، تنویر صاحب کا کام ایک روشن مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔
یہ نہ صرف ایک تحقیق ہے بلکہ ایک ایسا فریم ورک ہے جو سنجیدہ فکر، دیانتدار مکالمے اور عوامی رائے کی حقیقی ترجمانی کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
تنویر صاحب کی اس کاوش کو خراجِ تحسین پیش کرنا دراصل سچائی، محنت اور فکری دیانت کو خراج پیش کرنا ہے۔
۔۔۔۔
....
70) 03/04/2026 - Saajid Jarral - Political Activist & Lawyer - New City, Mirpur
السلام علیکم
پبلک کمیشن ازاد جموں وکشمیر
محقق کشمیر تنویر احمد صاحب، جنہوں نے گزشتہ تقریبا 21 سال سے اپنی پراسائش زندگی کو ٹھکرا کر خالصتا ریاست جموں و کشمیر کے مسئلے پر کام کیا اور وہ کام کیا جو اج تک کسی سیاسی جماعت تنظیم یا کوئی پارٹی نہ کر سکی، مثلاً( عوامی رائے اور عوامی ڈیٹا)جس سے حقیقی معنوں میں ریاست کے اندرونے بیانیے کو واضح کیا گیا ہے۔
بلاشبہ تنویر احمد صاحب کی تحقیق، فکر اور دانشمندی ریاست کے ہر باشعور، دیانتدار، غیرت مند اور جرات مند کے لیے منقسم ریاست کی واحدت کے لیے، کیے جانے والے عملی اقدامات کے لیے نہایت ناگزیر ہے۔
جس کے تحت ایک بااختیار اور باوقار عوامی حکومت کا قیام ممکن ہے جو کے اے جے کے میں قائم کر کے آذادی کی پہلی ضروری سیڑھی کا کام کرسکتی ہے۔
جس کے لیے تنویر احمد صاحب کا معاشی پروگرام بہترین اور نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
میں ایڈووکیٹ محمد ساجد پوری قوم کی طرف سے جناب کی امانتداری، دیانتداری، سچی لگن، نیک نیتی، جرات اور بہادری کا مشکور ہوں۔ شکریہ
۔۔۔۔
....
71) 06/04/2026 - Atif Maqbool - Media & Network Analyst - Leepa (Jhelum Valley)
! تنویر احمد صاحب
آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے میری توجہ اس عظیم اور فکری طور پر نہایت اہم منصوبے کی جانب مبذول کروائی۔
میں اس امر کا بھی معترف ہوں کہ آپ نے اس پروجیکٹ پر دو دہائیوں سے زائد عرصہ مسلسل محنت کی، سنجیدگی سے غور و فکر کیا اور اپنی قوم کے بہتر مستقبل کے لیے ایک واضح اور مربوط فکری و عملی خاکہ پیش کیا۔
بلاشبہ آپ کی یہ کاوش کشمیری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے اور میں کشمیری قوم کی طرف سے آپ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
میں نے آپ کی تمام تحریروں کا بغور مطالعہ کیا۔ عوامی حکومت کے قیام کے لیے آپ نے جو ماڈیول، طریقہ کار اور نظریاتی بنیاد پیش کی ہے، وہ نہایت قابلِ توجہ اور سنجیدہ مکالمے کی متقاضی ہے۔
یہ ایک ایسی سوچ ہے جو ایک آزاد ذہن رکھنے والا، باشعور اور تعلیم یافتہ فرد ہی پیش کر سکتا ہے۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے کشمیر میں ایسے صاحبِ فکر لوگ موجود ہیں جو ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر اجتماعی مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں۔
مزید برآں، میں نے ایک اہم پہلو یہ بھی محسوس کیا کہ تاحال آزاد جموں و کشمیر پبلک کمیشن اور عوامی نمائندگی کے موجودہ ڈھانچے، اس سوچ اور وژن کی اس سطح پر مکمل عکاسی نہیں کر پا رہے جس انداز میں کرنی چاہیے۔ میری رائے میں اس فکر اور مواد کو ہر کشمیری تک پہنچنا چاہیے، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے مزید سادہ، واضح اور عام فہم زبان میں پیش کیا جائے، تاکہ عام عوام بھی اس کے مثبت اور ممکنہ منفی اثرات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
جب یہ بحث عوامی سطح پر وسعت اختیار کرے گی تو اس اہم مقصد کے عملی طور پر آگے بڑھنے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
آپ کی یہ کوشش کہ یہاں کے لوگوں کو اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت ایک منظم حکومتی نظام اور مؤثر ادارہ جاتی ڈھانچے کی طرف لایا جائے، میرے نزدیک نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے۔ ایسے نظریات اور عملی تجاویز پر سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے، اور ہر باشعور کشمیری کو اس عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔
جب یہ خیالات مزید بہتر انداز میں عوام کے سامنے آئیں گے تو یقیناً بہت سے پہلو مزید واضح ہوں گے، اصلاح کی گنجائش پیدا ہو گی، اور بہتری کی طرف راستہ نکلے گا۔
میں آپ کی اس علمی، فکری اور قومی خدمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ اسی جذبے اور سنجیدگی کے ساتھ اس مشن کو آگے بڑھاتے رہیں گے، تاکہ کشمیری قوم کو ایک بہتر، منصفانہ اور باوقار مستقبل کی سمت رہنمائی میسر آ سکے۔
۔۔۔۔
....
72) 07/04/2026 - Ejaz Ul Hassan Khan Raja - Banking & Finance Expert - Dheerkot (Bagh)
یہ منصوبہ ایک مثبت اور باوقار وژن رکھتا ہے، تاہم اس کی مؤثر عملداری کے لیے چند عملی اقدامات تجویز کیے جا سکتے ہیں۔
سب سے پہلے، منافع کی شرح کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر استوار کیا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط ہو سکے۔
دوم، ایک واضح اور مضبوط قانونی و ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے جس میں شفافیت، آڈٹ اور نگرانی کے مؤثر نظام شامل ہوں۔
مزید برآں، فنڈز کے استعمال کے لیے ایک جامع کاروباری حکمت عملی پیش کی جائے، تاکہ آمدن کے ذرائع واضح ہوں۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے باقاعدہ رپورٹنگ اور معلومات کی فراہمی بھی نہایت ضروری ہے۔
ابتدائی طور پر اس منصوبے کو محدود پیمانے پر (پائلٹ پروجیکٹ) کے طور پر شروع کیا جا سکتا ہے، تاکہ اس کی افادیت کو جانچا جا سکے۔
ساتھ ہی، انسانی وسائل کی ترقی کے لیے تربیتی پروگرامز متعارف کروائے جائیں، تاکہ نوجوان اس نظام میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
اگر ان تمام پہلوؤں پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے، تو یہ منصوبہ ایک قابلِ عمل اور پائیدار معاشی ماڈل میں ڈھل سکتا ہے۔
آپ نے خاصی محنت سے ایک بڑا وژن ترتیب دیا ہے، اب اسے عملی اور مؤثر بنانے کے لیے ہر نکتے کے ساتھ ایک واضح حل اور مثال بھی پیش کی جاتی ہے۔۔
حقیقت پسندانہ منافع
حل: منافع کو مرحلہ وار اور مارکیٹ کے مطابق رکھا جائے (مثلاً 10–15% سالانہ)۔
مثال: اگر کوئی شہری 4 لاکھ روپے لگائے تو 10 سال بعد اسے تقریباً 8–10 لاکھ ملیں، جو قابلِ یقین بھی ہے اور پائیدار بھی۔
۔۔
قانونی و ادارہ جاتی ڈھانچہ
حل: اسکیم کو باقاعدہ اتھارٹی کے تحت رجسٹر کر کے آڈٹ اور نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔
مثال: جیسے بینک یا میوچل فنڈز ریگولیٹری اداروں کے تحت رجسٹر ہوتے ہیں، اسی طرز پر اس منصوبے کی قانونی حیثیت واضح کی جائے۔
۔۔
واضح بزنس ماڈل
حل: سرمایہ کاری کو مخصوص شعبوں (تعلیم، توانائی، انفراسٹرکچر) میں لگانے کا اعلان کیا جائے۔
مثال: اگر فنڈز سے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ لگایا جائے تو اس سے بجلی کی فروخت سے مستقل آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔
۔۔
شفافیت اور رپورٹنگ
حل: ہر سرمایہ کار کو باقاعدہ سہ ماہی یا سالانہ رپورٹ فراہم کی جائے۔
مثال: ایک آن لائن پورٹل ہو جہاں ہر فرد اپنی سرمایہ کاری اور منافع کی تفصیل دیکھ سکے۔
۔۔
پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز
حل: پہلے محدود سطح پر اسکیم شروع کر کے نتائج ثابت کیے جائیں۔
مثال: ایک ضلع میں 1000 افراد کے ساتھ آغاز کر کے کامیابی دکھائی جائے، پھر پورے خطے تک پھیلایا جائے۔
۔۔
نوجوانوں کی تربیت
حل: اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز اور ادارے قائم کیے جائیں۔
مثال: آئی ٹی، فنانس یا ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرز بنا کر نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنایا جائے، جو بعد میں اسی نظام کو مضبوط کریں۔
۔۔
غیر سیاسی اور معاشی بنیاد
حل: منصوبے کو سیاسی بیانیے سے الگ رکھ کر خالص معاشی و فلاحی بنیاد پر پیش کیا جائے۔
مثال: جیسے کامیاب کوآپریٹو ماڈلز میں صرف معاشی بہتری کو ترجیح دی جاتی ہے۔
۔۔
مختصراً، اگر اس وژن کو ٹھوس بنیادیں، شفاف نظام اور مرحلہ وار عملدرآمد مل جائے، تو یہ ایک قابلِ اعتماد اور پائیدار معاشی ماڈل بن سکتا ہے۔
والسلام
اعجاز الحسن خان راجہ
۔۔۔۔
I responded to this important note on 08/04/2026 with the following initial observations:
راجہ عجاز الحسن صاحب نے ایک بہترین انگل/ زاویہ دیا ہے جس کو تقابلی جائزہ لینے کے لئے بہت ضروری ہے۔ مکالمہ کے جو اصول ہیں اس کے لئے بھی ضروری ہے۔ انہوں نے، آپ کہہ سکتے ہیں کے ایک بینکر کے انگل/ زاویہ سے شاید دیکھا ہے۔ وہ خود اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں۔
تو اس میں فی الوقت میں صرف دو تین چیزیں کہوں گا۔کہ دیکھیے کاروبار ہوتے ہیں ساری دنیا میں اور جن جن علاقوں میں قانون کی بالا دستی اور سہولیات کاروبار کو بڑھانے کے لئے جہاں پہ زیادہ ہے، جہاں پہ اس کے لئےسہولتیں ہیں تو ظاہر ہے کہ کاروبار کا زیادہ فروغ ان جگہوں پر ہوتا ہے۔
یہاں پہ یہ ہے ہمارے ہاں کہ جو رول آف لا (قانون کی حکمرانی) کے معاملات ہیں جو دراصل گورنس کے معاملات ہیں، ظاہر ہے کے وہی درست نہیں ہے اور نظام جو بنا ہوا یہاں پہ، اس کی خددخال (سٹرکچر) جو ہے، وہ یہاں کی لوگوں کی ضروریات اور یہاں کی لوگوں کی جائز خدشات کے روشنی میں نہیں ہے۔اس کو اس ڈگر پر لانا ضروری ہےاور بذاتِ خُود ان جیزوں کیلئےایک بھاری انویسمنٹ چاہیے۔
گورننس اوٹومیٹکلی پیدا نہیں ہوتی، سٹیٹ کرافٹ (ریاستی حکمت عملی،فنِ حکمرانی، ملک داری) کے جو معاملات ہیں، وہ بھی اوٹومیٹکلی پیدا نہیں ہوتے۔ میں نے جو تجربہ کیا ہے پچھلے اکیس سال سے، وہ ہمیں اسی خلا کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ جو ریٹ سو گناہ کا جو پرسنٹیج وائز دس ہزار فیصد بنتا ہے دس سال کے بعد، جس میں گروتھ ایک ہزار فیصد کی ہے سالانہ، تو وہ اسی خلا کے وجہ سے ہے۔
اس کو اگر ہم نیجی طریقے سے کرنے کی کوشش کریں گے تو وہ جو دس سال میں سوگنا کا ریٹرن ہے، وہ اس میں ممکن ہی نہیں ہے۔ دس گناہ بھی شاید ممکن نہ ہو اس نیجی اعتبار سے۔
لیکن کیونکہ یہ نظام بنانے کے لیے انویسمنٹ ہے اور نظام کے اندر شریک سب ہونے چاہیئے، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ ہر شہری ایک شراکتدار ہے۔
تو یہ میرے تجربے کے روشنی میں چیزیں آئیں ہیں لیکن ان میں چیزیں قابل عمل کیا ہونگی وہ ظاہر ہے کہ آپ دوست ہی اپنے اپنے مخصوص تجربے کی روشنی میں وہ ہماری رہنمائی کرتے رہیں گے۔
اس کی اوپر بات چیت بھی آمنے سامنے ضِلع وار میٹنگز کی شکل میں ہوں گی اور دو تین دوستوں نے - آپ کہہ سکتے ہیں - ایسے مخصوص زاویہ ظاہر کیے ہیں جو میری اپنے تحریروں میں نہیں ہیں۔
اور وہ میرے مخصوص تجربےکی بنیاد پر میری تحریرے ہے اور ہر دوست جو یہاں پہ ہیں ، ظاہر ہے کے ان سب کا زندگی میں اپنا مخصوص تجربہ ہے۔ اسی معاشرے میں ہم بھی رہتے ہیں، آپ لوگ بھی رہتے ہیں۔ تو یہ پل باندھنا
bridging & consensus-building
اتفاقِ رائے کی کوشش میں یہ چیزیں شامل ہیں۔
تو بہت بہت شکریہ راجہ اجاز الحسن صاحب۔ یو بات چیت آگے بڑھتی جائے گی، پختہ ہوتی جائے گی اور مکالمے کے جو دستور ہیں، وہ بالاخر اس معاشرے میں اپنی جگہ لیں گے۔
۔۔۔۔
....
*(51) 08/04/2026 - Choudhary Gulzar Ahmed Advocate - Senior Lawyer & Social Welfare Activist - Bhimber
*He has already provided his initial review as Number 51 and this following note is an addition to that:
حکومت پاکستان مسلہ کشمیر کو مزید خراب نہ کرے۔اور انسانی مسلمانی سوچ کو پروان چڑھاتے ہوئے مسلہ کشمیر کو نیک خواہشات کے پیش نظر رکھتے ہوئے اقدامات کرے ۔
ایک یہ کہ آزاد کشمیر اور گلگت کی ایک حکومت بنائی جائے۔۔
دوسرا کشمیری قوم کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرنے ہوئے آر پا ر آنے جانے کی اجازت دی جائے
۔۔۔۔
....
73) 11/04/2026 - Tabinda Afridi - M Phil Student - Khursheedabad (Haveli)
In my view, the idea of #FreeGovtAJK2025 should mean greater political and administrative autonomy for the Government of Azad Jammu & Kashmir. The government should be empowered with a special constitutional and democratic status that allows it to make decisions independently, in accordance with the aspirations and needs of its own people. The decisions of the Legislative Assembly should reflect the will of the citizens of AJK and should be taken through transparent democratic processes, without external interference. Leadership positions - including the Prime Minister - should be determined solely by the mandate of the people.
A truly effective government must also have the freedom to design and implement its own development policies, economic strategies and public welfare programmes based on local priorities. The people of Azad Jammu & Kashmir understand their challenges and opportunities better than anyone else; therefore, their elected representatives should have the authority to respond to public demands in an independent and accountable manner.
Another important concern is political continuity. Changes in political leadership or party systems elsewhere should not automatically determine governance outcomes in AJK. Azad Jammu & Kashmir has its own distinct political identity and its democratic institutions should function on the basis of local legitimacy, rather than external political shifts.
Additionally, stronger autonomy can improve governance, strengthen institutions, increase public trust and encourage long-term planning. When governments are free to act responsibly and independently, they are better able to deliver development, protect public interests and ensure stability.
A meaningful freedom for the Government of Azad Jammu & Kashmir is essential for democratic maturity, sustainable development and the dignity of its people. Without genuine decision-making power and institutional independence, progress will remain limited.
..
In my opinion #PeaceBondAJK2025 is a timely and meaningful vision that highlights the importance of peace, stability and trust-building in Azad Jammu & Kashmir. Kashmir has long remained a disputed territory and this reality has deeply affected the lives of its people, especially children and young generations. It is extremely difficult for any society to think progressively when people grow up under constant uncertainty, fear and insecurity.
For many families in the region, the possibility of border tensions, conflict or displacement remains a continuing concern. When people live with the fear that violence may erupt at any time or that they may be forced to leave their homes, their mental energy is naturally directed toward survival rather than growth, creativity or long-term development. A society burdened by insecurity cannot fully unlock its human potential.
Therefore, for the stability of any region, it is essential to create a healthy and peaceful environment where citizens feel safe and respected. Public trust in government must be strengthened and the relationship between citizens and institutions should remain co-operative and constructive. Frequent unrest, clashes or instability damage not only daily life but also confidence in the future.
Peace also requires social cohesion among all communities and regions. Despite cultural or sectarian differences; unity, mutual respect and tolerance must be promoted so that no division harms the social fabric. People should feel assured that if injustice occurs, they will receive justice, equal opportunities and fair treatment under the law.
At the same time, peace should not be understood merely as the absence of conflict. True peace includes political stability, effective governance, economic growth and social harmony. It creates conditions where investors feel confident and businesses can grow and employment opportunities expand. It also allows tourism to flourish. Azad Jammu & Kashmir is a land of extraordinary natural beauty and its peaceful image should be promoted to the world, so that tourism becomes a source of prosperity and international recognition.
A strong governance system is equally important. Transparent institutions, accountable leadership and responsive administration are necessary for sustainable peace. When governance is strong, people develop confidence in the state and become active partners in progress.
Another important dimension is representation at the international level. If the Kashmir issue is discussed globally, the voices of the Kashmiri people themselves should also be heard directly in international forums. Authentic representation matters because no people can express their concerns, aspirations and lived realities better than those who experience them first-hand. Meaningful participation of local voices can strengthen understanding and promote a more balanced global perspective.
#PeaceBondAJK2025 is not only a slogan but a comprehensive framework for peace, dignity, development and inclusive representation. A peaceful and stable Azad Jammu & Kashmir can become a model of resilience and opportunity.
....
74) 12/04/2026 - Azmat A Khan - Academic & Senior Political Activist - Mirpur & Bradford (UK)
On #NoElectionAJK2026 Note:
Your arguments are sound but good for people like me who are readily convinced but it is unrealistic to expect UK MPs, prospective candidates or even ex MPs to get involved in AJK restructure debate, for the sake of it's people.
No body can get these people to come together for an intellectual debate on the merits of your arguments, or to even participate in such an external project which has nothing to do with UK parliament.
Those who are interested in the larger issue of Kashmir are already part of APPG (All Parties Parliamentary Group) on Kashmir but even they will not get involved in the debate as to how Azad Kashmir should be run internally and by whom.
However, this should be the aim of the pro independence lobby in the UK and Europe but unfortunately these groups are too entrenched in short term gains for personal projection and/or self promotion due to competing interests and that includes JKLF, which I have been trying to change.
On #FreeGovtAJK2025 Document:
This is a well thought out perspective but question remains, how to get there?
Can any individual or a group of people such as pro independence parties deliver it? No, they have no such plan.
Can it be achieved by campaigns of the kind undertaken by the Joint Awami Action Committee? Yes but will they? No!
I think the answer lies in an umbrella coalition of pro independence groups but then if you can't get the JKLF groups to sit together, how is it possible to get all nationalist groups to get together?
On Public Reviews received:
This is a worthwhile effort.
On #PeaceBondAJK2025 Document:
About this I am not clear, how will it actually work unless the money collected is invested in an outstanding project, with guarantees of the projected profits and returns?
If it was so viable with guarantees, I would be willing to invest £50,000 of my own money and may even join in with a few more partners but not risk even £1,000, with hundreds and thousands of others, simply because this kind of enterprise would need a company management structure to undertake investment projects, as other stock market companies do and it carries equal amount of risk as well as cost of running the company with paid employees.
My Responses:
#PeaceBondAJK2025 :
Local knowledge and an institutional framework has been created to deal with all matters. To convert from 1 to 56 is in process with the introduction of Public Commission - AJK in 2024.
Moving towards #PopularSovereignty is an evolutionary process and its success has many reasons, yet its failure has always been non-inclusivity of all those who qualify as descendants of State Subjects.
We have built internally to engage externally. Our building continues and it will be completed when 90% of AJK citizens have been documented and verified that they want their own government.
#NoElectionAJK2025 :
#UKMPs of #AJK origin have to engage based on their record in the UK Parliament. You cannot cry HR (Human Rights) violations in IOK (Indian-Occupied Kashmir) without raising concerns about civilians in AJK being killed by Pakistan, for peacefully and tactfully regaining their fundamental rights.
Democracy or British values cannot mean much if you can't tolerate such values in a territory/country formerly under British suzerainty, suffering from its decisions since 1947.
Self Determination is an exercise, everybody has to take part.
There are plenty of examples where UK MPs of AJK origin have interfered with the public process in AJK. Muhammad Yasin MP of Bedford addressed JKLF in Jaskol near Chakothi on CFL in October 2019, pleading with them to disperse the dharna (sit-in protest) as their "voices were being heard in the highest forums in the world and the future is rosy".
They can't have it both ways. Their reluctance and hesitance have to be discussed by the public too, via media.
His response:
My point was that they are only good for speeches, in personal capacity, which makes no impact on UK government or any other government.
My response (in turn):
Right.
....
75) 17/04/2026 - Maghrib Tanveer - Medical/Nursing Student - Sehnsa (Kotli) & Derby (UK)
#FreeGovtAJK2025 and #PeaceBondAJK2025 will play an important role in providing the public with a real opportunity to reshape the future of the territory and restore its original, rightful identity. However, true progress also requires diversity, inclusivity and mutual tolerance. These are qualities that the public has lacked to some extent and they have remained a major weakness since 1947. The public must learn not only to acknowledge different religions but to genuinely respect them.
It is equally important to empower women, encouraging them to participate openly and equally alongside men. Diversity and inclusion are essential for a thriving society and these can only be achieved through active encouragement and by breaking long-standing stereotypes. A nation cannot be built by men alone; women have an equal right to contribute to society and their role is invaluable. They are not confined to the kitchen as they also have a vital responsibility to contribute to the economy, to have a seat at the table and to be included in every decision shaping the territory’s future.
In the past, a high number of public protests and demonstrations occurred mainly when a comrade was captured or in remembrance of those who had passed away. It was far less common to see people protesting for their basic rights or putting pressure on the government. Today, however, we are witnessing a significant shift, with more people actively demanding their rights, using effective strategies such as road blockades and lockdowns to put pressure on the AJK government. The government's inability to serve its people has revealed its ineffectiveness, which has made it clear that under illegal occupation, freedom and human rights remain out of reach.
The only genuine path forward is through self-determination, establishing a truly free government that not only fulfils basic rights but also respects and delivers on the broader aspirations of its citizens, who belong to a precious and deserving territory.
Those who support these two initiatives to form a free government should also take responsibility for inspiring and convincing those who have lost hope in the future of this land. I also urge Kashmiri students abroad to play their part, even if in the smallest of ways. The education and experiences gained overseas will one day become invaluable in reforming AJK’s healthcare and education systems, contributing meaningfully to the progress of the region.
....
76) 29/04/2026 - Sardar Anwar - Senior Political Activist - Ali Sojal, Rawalakot (Poonch) & Utah State (USA)
محترم تنویر صاحب ایک پڑھے لکھے، سنجیدہ، باجرت محقق و صحافی ہیں۔
گذشتہ کئی سالوں سے ہاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کی معاشی، معاشرتی اور فکری طور پر منقسم عوام کو جوڑنے اور اجتماعی شعور پیدا کرنے کے لئے اپنی طرف سے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس کےلیے انہوں نے منقسم ریاست کے ہر اضلاع، تحصیل حتی کے گاوٴں گاوٴں میں نہ صرف اگہائی مہم چلائی بلکہ عوامی حقوق اور قومی آذادی کی مزاحمتی تحریکوں میں بھی شامل رہےہیں۔
انکے کام کا طریقہ، رفتار اور حکمت عملی سے ناسمجھی اور اختلاف تو کیا جا سکتا ہے لیکن انکے خلوص، محنت، جرت اور جہد مسلسل سے انکار ممکن نہیں ہے۔
میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کے شعوری اگہائی کی مہم کو اب ایک منظم ادارے اور سیکرٹریٹ کی ضرورت ہے۔ جہاں تحقیق، تخلیق، تعلیم، تربیت، تحریر اور مکالمے کی اشد ضرورت ہے۔
میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں اب اس پوری جدوجہد کو مزید جدت دینے کے لئے میگزین، میڈیا چینل کی ضرورت ہے۔
بہرحال میں ذاتی حیثیت سے تنویر صاحب کی جدوجہد کا معترف ہوں اور انکی مزید کامیابی کے لئے دعاگو بھی اور تلخ حقیقت کابھی اعتراف کرتا ہوں کہ میں ذاتی حیثیت، حالات کی گردش کے باعث، انکے ساتھ کوئی تعاون نہیں کر سکا۔
انکی کامیابی کے لئے ڈھیروں دعائیں۔
۔۔۔۔
....
No comments:
Post a Comment