1006hrs:
I'm not escaping that 0900hrs waking up routine just yet. I'm also slipping into scrolling in the evening beyond 2000hrs when I should be asleep by that time, in order to get up at the appointed time of 0300hrs.
This has already proved costly and I continue counting on a daily basis.
....
From a regional environmental point of view the following article reports an extremely disturbing phenomenon. Many thanks to SAPAN for bringing this to us:
Delhi and Lahore’s winter smog is dimming Kathmandu’s mountains too by Sapan News
Pollution from North India and Pakistan is clouding Kathmandu’s skies, exposing how shared airsheds are accelerating health crises and glacier melt.
Read on Substack!ایک بڑے گھرانے کا وضع دار سیاست دان اللہ کے ہاں لوٹ گیا
!کام جو کرنے کو تھے رہ گئے
بیرسٹر سلطان محمود آزاد کشمیر کے ایک بڑے گھرانے کے وضع دار سیاست دان اللہ کو پیارے ہوئے۔ اللہ تعالٰی مغفرت فرمائے اور درجات بلند ہوں۔
سیانے کہتے ہیں کہ۔۔
The Dead Has No Defence
اس لئے اب وہ منوں مٹی کے نیچے, ایک نئے سفر پر ہیں ۔ ہم سب دوست اور شناساء انہیں یاد کریں گے۔ ہم سے بھی ان کی ایک طویل شناسائی تھی اور میں بھی ان کی وضع داری کا معترف رہا ہوں۔
کل سے وہ ریاست کے بڑے گھر کے مکین اور ریاست کی بڑی گاڑی کے مسافر نہیں رہے۔ ہم ان کی کمی محسوس کرتے رہیں گے۔
افسوس اس بات کا ضرور رہے گا کہ وہ بحیثیت وزیراعظم اور بحیثیت صدر ریاست صرف ایک
Symbol
کے نظر آئے مگر ان دو آئینی مناصب سے جڑی واضح آئینی ذمہ داریاں نبھا نہ سکے۔ بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا، کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دے ہی نہیں سکے۔
بڑے گھر اور بڑی گاڑیاں آئینی ذمہ داریوں کی سڑک پر نہیں چلا سکے۔
بس ایک
Symbolic
وجود تھا جو اپنے ساتھ جڑی آئینی ذمہ داریاں بحیثیت ممبر اسمبلی 31 سال, بحیثیت وزیراعظم 5 سال اور بحیثیت صدر ریاست 5 سال اگر نبھاتے کشمیر میں 5 اگست 2019 نہ ہوتا'کشمر میں ایک لاکھ نوجوان اور بزرگ قتل نہ ہوتے اور آزاد کشمیر میں سستی بجلی اور سستے آٹے کے لئے تحریک نہ چلتی۔ یہاں حقوق کی تحریک کا مزاج مختلف ہوتا اور آزاد کشمیر ایک ماڈل ریاست ہوتی۔
بیرسٹر سلطان محمود 31 سال بحیثیت ممبر اسمبلی، 5سال بحیثیت وزیراعظم اور 5 سال بحیثیت صدر ریاست
under oath
رہے اور مختلف ذمہ داریوں کے پابند رہے۔
بحیثیت صدر ریاست آئین کے آرٹیکل 10 اور 11 کے تحت ان کے خصوصی اختیارات اور آرٹیکل 11 کے تحت 1970 سے ایک خاص ذمہ داری تھی۔ اپنی 41 سالہ سیاسی زندگی میں انہوں نے
Symbolic
کام تو ضرور کیا لیکن آئینی ذمہ داریوں کی طرف توجہ نہیں دی۔
آئینی منصب ایک
Symbol
بن کر رہ گیا۔
اس سے جڑی ذمہ داری
Responsibility
نظر انداز ہوئی۔
ایک قانون دان ہوتے ہوئے بھی نہ بحیثیت منتخب رکن اسمبلی کے کراچی ایگریمنٹ کے تحت تقسیم کار پر سوال اٹھایا اور نہ ہی آئینی منصب کے حوالے سے ایکٹ 1970 کی شق8 اور نہ ایکٹ 1974 اور آئین 1974 کے آرٹیکل 11 کی ذمہ داری کی طرف توجہ دی۔ یہ صدر ریاست کا
exclusive
اختیار ہی نہیں تھا بلکہ حکومت آزاد کشمیر کے قیام کی بنیادبھی تھی۔
اگرچہ حق خودارادیت پر کام کرنے کو
institutionalise
کرنے کے لئے ایکٹ 1970 میں مشاورت درکار تھی ایکٹ 1974 میں صدر آزاد کشمیر کو اس سلسلے میں کلی اختیار دیا گیا۔
صدر کے حق خودارادیت کے کام کو
institutionalise
کرنے کے اس اختیار کو آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے فل بنچ نے اپنے اپریل 1999 کے فیصلے میں وضاحت کے ساتھ تسلیم کیا۔ اس طرح صدر آزاد کشمیر آئینی ذمہ داریوں کے علاوہ قانون کی بالادستی
Rule of Law
کا بھی امین تھا۔
صدر ریاست اپنے اس اختیار کے حوالے سے کراچی ایگریمنٹ کے فریقین اور اپنی حکومت سے کام کا اور پیش رفت کا
Audit
طلب کر سکتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ حکومت پاکستان سے 1949 میں قائم کی گئی
Electoral Rolls and Polling Sub-Committee
کے کام کی تفصیل مانگ سکتے تھے اور آزاد کشمیر سے اقوام متحدہ کی ٹمپلیٹ کو زندہ اور موثر رکھنے میں کامیاب اور کلیدی کردار ادا کر سکتے تھے۔
لیکن صدر آزاد کشمیر کا منصب
substantive
اور آئینی دائیرے سے نکل کر ڈیلیگیشن کو خوش آمدید کہنے اور لندن, نیویارک یا کسی ایک آدھ ملک میں جاکر یا اقوام متحدہ کے سامنے سڑک پر احتجاج اور اپنے جمع کئے لوگوں سے مخاطب ہونے تک محدود ہوگیا۔
صدارتی منصب کے
lift off
ہونے کا انجن آج تک سٹارٹ نہیں ہوا۔ صدارت کا منصب
Symbolism
کی قید سے آزاد ہوکر ایک واضح
Responsibility
کے منصب میں تبدیل نہ ہو سکا۔
بیرسٹر سلطان محمود اس غفلت میں تنہا نہیں۔ البتہ وہ ایک بڑے سیاسی گھرانے کے سیاستدان تھے۔ 31 سال بحیثیت ممبر اسمبلی, 5 سال بحیثیت وزیراعظم اور 5 سال بحیثیت صدر
under oath
رہے۔ بڑے گھر اور بڑی گاڑی کی
Symbolic
ذمہ داریاں تو نبھائیں مگر آئینی ذمہ داری نبھانے میں، باقیوں کی طرح خطاء کھاگئے۔
اللہ مغفرت فرمائے اور درجات بلند ہوں۔ اللہ قبیلے اور احباب کو صبر دے۔
نئے صدر کا لفافہ بھی چند دنوں میں کھلے گا۔ ہمارے آئینی مناصب کی شروعات ہی
compromised
ہوتی ہیں۔
لیکن حالات نے بدلنا ہے اور بدلنا ہوگا۔
سید نذیر گیلانی
2
فروری 2026
No comments:
Post a Comment