1222hrs:
Compared to the previous 2 nights, a slight improvement was made in that I got to sleep at c. 0100hrs. I did awake at 0800hrs but didn't actually get up till 1000hrs, 7 hours later than my ideal and aspired for time to wake up.
Now that I'm returning home today, I hope I can resume working on setting that ideal routine in place.
....
:خاتون
1.0 آج ہم جس پیپر پر بات کر رہے ہیں وہ ہے۔۔ہمم۔۔سٹیزن پبلک اوپینین سروے رپورٹ۔
اے جے کے - آزاد جموں و کشمیر - از تنویر احمد
کافی لمبا نام ہے، ہے نا؟
:مرد
بالکل لمبا، لیکن ساتھ ہی… میرا مطلب ہے…یہ عنوان تقریباً اس بات کو کم ہی ظاہر کرتا ہے کہ یہ منصوبہ حقیقت میں کتنا حوصلہ مند ہے۔
یہ ایک 5 سالہ کوشش ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کی اس وقت کے تمام 32 تحصیلو میں 10،000سرویز
کیے گئے۔ یعنی دس ہزار ہم وطنوں سے رائے لی گئی۔
!میں صرف نمبرز گنواتے ہوئے ہی تھک جاتا ہوں
:خاتون
!صحیح
اور… آپ جانتے ہیں… جو چیز مجھے فوراً اپنی طرف کھینچ لائی وہ بنیادی سوال تھا جو یہ سروے اٹھاتا ہے۔
— بنیادی طور پر، آزاد جموں و کشمیر کے شہری—جن کے بارے میں اکثر بات کی جاتی ہے مگر شاذ و نادر ہی ان کی بات سنی جاتی ہے
وہ اصل میں کیا چاہتے ہیں؟
وہ شناخت کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ حکمرانی کے بارے میں؟ ممعیشت اور معاشرے کے بارے میں؟
:مرد
ہاں… اور یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ… امم…میرا خیال ہے کہ ہم کشمیر کے بارے میں جو کچھ سنتے ہیں وہ زیادہ تر سیاست دانوں یا میڈیا یا نام نہاد ماہرین سے آتا ہے، ٹھیک ہے؟
تو!… عام شہریوں سے سننا، خاص طور پر ایسے خطے میں جہاں اتنی تاریخ اور پیچیدگی ہے، بس…تازہ ہوا کے جھونکے جیسا محسوس ہوتا ہے۔
:خاتون
!واقعی ایسا ہی ہے
اور یہ پیپر اس بات سے نہیں گھبراتا کہ آزاد جموں و کشمیرمیں تحقیق کرنا کتنا مشکل تھا۔
!مثلاً مصنف تنویر احمد بتاتے ہیں کہ انہیں حراست میں لیا گیا… دراصل… اغوا کیا گیا
!دو مرتبہ! سیکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سےصرف… یعنی… لوگوں سے سوال پوچھنے کی کوشش کرنے پر
یہ عوامی مکالمے کے ماحول کے بارے میں بہت کچھ بتا رہا ہے۔
:مرد
!یقیناً
میرا مطلب ہے… اگر صرف ایک سروے چلانا ہی اتنا خطرناک ہو، تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ اس قسم کی معلومات کتنی نایاب ہیں۔
لیکن… آئیے اب کچھ نتائج کی بات کرتے ہیں۔
!اعداد و شمار خود… امم… خاصے چونکا دینے والے ہیں
:خاتون
آپ کا مطلب ہے… جیسے…کہ 73 فیصد جواب دہندگان خود کو سب سے پہلے کشمیری سمجھتے ہیں
جبکہ صرف 27 فیصد پاکستانی کے طور پر شناخت کرتے ہیں، اور ایک بہت ہی چھوٹا سا حصہ… تقریباً کوئی نہیں…
خود کو بھارتی کہتا ہے؟
:مرد
!یہ تو واقعی تہلکہ خیزہے
باہر کی دنیا آزاد جموں و کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے درمیان مقابلے کے طور پر پیش کرتی ہے،مگر خود لوگوں کے لیے یہ شناختیں بالکل مرکزی نہیں ہیں
:خاتون
ہاں…اور تاریخی ریاست جموں و کشمیر—جیسی کہ وہ 1947 سے پہلے تھی—کی سالمیت کے سوال پر 97 فیصد اس کے حق میں ہیں۔
!جو… کسی حد تک… اس خیال کو رد کرتا ہے کہ موجودہ سرحدیں مقامی طور پر بامعنی ہیں
میرے خیال میں یہاں مکمل پن کی ایک خواہش موجود ہے۔
:مرد
اور پھر… حکومت اور اداروں کے بارے میںصرف 8 فیصد نے موجودہ ڈھانچے کو اچھا قرار دیا، زیادہ تر نے اسے کمزور
یا برا کہا۔
!یہاں ایک بے اطمینانی ہے جو کافی واضح طور پر سامنے آتی ہے
:خاتون
اوہ! اور پھر شہری و ریاست کے درمیان معاہدے پر مضبوط اتفاق رائے ہے…یعنی سماجی معاہدہ…بنیادی جواب دہی…98
!فیصد نے کہا کہ یہ اہم ہے
میرا مطلب ہے… لوگ حصہ لینا چاہتے ہیں! بس انہیں… آہ…درست حالات نہیں دیے جا رہے۔
:مرد
!بالکل
میں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ… امم…ان کی معاشی خواہشات میں ایک عملی انداز ہے۔
تجارتی راستے کھولنے اور وسائل کے اختیار پر کافی زور دیا گیا ہے۔
یہ کوئی “خیالی نظریہ” نہیں ہے۔یہ ہے…چلو چیزوں کو حرکت میں لائیں تاکہ لوگ خوشحال ہوسکیں۔
:خاتون
:ایک ضمنی بات
!مجھے صنفی تقسیم… کچھ… مایوس کن لگی
!صرف 10 فیصد جواب دہندگان خواتین تھیں
!لیکن… وہاں کے سماجی اصولوں کو دیکھتے ہوئے…شاید یہ… توقع سے زیادہ ہی ہو
مجھے نہیں معلوم…میں ہمیشہ چاہتی ہوں کہ ان چیزوں میں زیادہ توازن ہو۔
:مرد
ہاں… لیکن جیسے کہ… آپ دیکھ سکتی ہیں…یہ پابندیاں حقیقی وقت میں نظر آتی ہیں۔
!یہ ایک قدامت پسند معاشرہ ہے…تو خواتین تک پہنچنا اور ان سے کھل کر بات کرنا خود ایک آزمائش ہے
لیکن یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حتیٰ کہ سرویز بھی… آہ…بڑے سماجی مسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔
:خاتون
آزمائشو کی بات کرتے ہوئے…کیا ہم ایک لمحے کے لیے رک کر اس اجتماعی فنڈنگ والے پہلو پر حیرت انگیز ہو سکتے ہیں؟
جن شہریوں کا سروے کیا گیا، ان سے مالی تعاون بھی مانگا گیا…اور تقریباً دو تہائی نے، رقم یا کسی اور شکل میں، تعاون کیا۔
!یہ تو کمال ہے
ذرا تصور کریں اگر… پتا نہیں… گیلپ ایسا کرے؟
:مرد
!۔۔(زور سے) ہُہ
! وہ تو کچھ اور ہی ہوگا
! براہِ کرم اپنے فون پول یعنی رائے درج کرتے ہوئے ہمیں ایزی پیسہ کریں
لیکن یہ… جیسے…ملکیت کا احساس پیدا کرتا ہے، ہے نا؟
لوگوں کا عملی طور پر اس میں حصہ ہوتا ہے۔
میرا خیال ہے…ایک طرح سے…یہ سروے کو زیادہ… جمہوری بنا دیتا ہے، اگر یہ لفظ زیادہ عظیم نہ ہو۔
:خاتون
!ہاں
اور یہ واقعی تنویراحمد کے اس تصور کی طرف واپس جاتا ہے۔۔ملکیت سازی کے اقدامات
Ownership-Building Measures (OBMs)
۔۔ یعنی اعتماد سازی سے اگلا مرحلہ۔
لوگوں کو شامل کرو۔انہیں سرمایہ کاری کرنے دو۔شاید وہ نتائج کی زیادہ پرواہ کریں۔
:مرد
یہ پیپر میرے لیے جو بات واضح کرتا ہے وہ یہ ہے کہ… آہ…اس طرح کی تحقیق…کوئی آخری سچ نہیں ہوتی۔
سیاسی سماجی فضا بے ترتیب ہے ۔اس پر اثر پڑتا ہے کہ کون دستیاب تھا، کون بات کرنے پر آمادہ تھا۔یہ سب۔
لیکن یہ ہمیں ایک جھروکہ دیتا ہے…ایک… کیا…آغاز؟
:خاتون
!بالکل
یہ کوئی مقدس سچ نہیں مگر یہ سوچنے کے لیے کچھ ضرور دیتا ہے۔
اور ہم جیسے باہر بیٹھے لوگوں کے لیےیہ یاد دہانی ہے کہ سرخیوں کے پیچھے حقیقی لوگ ہیں جو مشکل سوالات سے دوچار ہیں جو… میرا مطلب ہے…عالمگیر محسوس ہوتے ہیں
چاہے آپ آزاد جموں و کشمیر میں ہوں یا کہیں اور۔
:مرد
!اس سے بہتر میں نہیں بیان کر سکتا تھا
یہ ایسے ہے جیسے علمی بصیرتیں نتائج نہیں ہوتیں، بلکہ دعوتیں ہوتی ہیں۔
تو… آئیے گفتگو کھلی اور جاری رکھیں۔
:خاتون
!بلا شبہ
اس پر میرے ساتھ تبصرہ اور نظرِ ثانی کرنے کا شکریہ۔
:مرد
ہمیشہ خوشی ہوتی ہے۔
…
5
منٹ 26 سیکنڈ کی انگریزی آڈیو کے اردو ترجمہ کا اختتام
....
لاجواب جناب محترم تنویر صاحب۔
آپ کی یہ تحقیق آزاد جموں و کشمیر کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی طویل المدت اور عوامی بنیاد پر اٹھنے والی رائے شماری کے طور پر ایک نمایاں تحقیق ہے۔
پانچ برس سے زائد عرصے پر محیط اس تحقیقی عمل میں آپ نے آزاد کشمیر کی تمام 32 تحصیلوں سے 10,000 ایسے شہریوں کی رائے شامل کی جو ریاستی شہریت (1927) کے تحت اہل تھے۔
آپ نے اس عظیم کام کو نہایت احسن طریقے سے انجام دیا ہے۔ آپ کی تحقیقی بصیرت علمیت اور تجزیاتی صلاحیتیں بلا شبہ غیر معمولی ہیں۔
میں آپ کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ جہاں آپ نے یہ بہترین تحقیق پیش کی ہے وہاں آپ نے ہمارے خطے کے اندر موجود فکری اور علمی ٹیلنٹ کو بھی اجاگر کیا ہے۔
بین الاقوامی معیار کی اس تحقیق کو پیش کر کے جناب نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر محض ایک متنازعہ جغرافیہ نہیں ہے۔ یہ سنجیدہ باشعور اور باصلاحیت اذہان سے بھرا ہوا ایک زندہ سماج ہے۔
یہ تحقیق آپ نے ایک انتہائی مشکل پیچیدہ اور رکاوٹوں سے بھری ہوئی راہ میں انجام دی ہے۔ آپ نے اپنے قیمتی وقت اور توانائی کی بے پناہ قربانی دی اور عزم و استقلال کے ساتھ یہ کام مکمل کیا۔ یقینا آپ اس کوشش اور لگن کے لیے خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔
میں نے ابھی پوری رپورٹ کا مطالعہ نہیں کیا تاہم جو حصہ میں نے دیکھا اور پڑھا ہے وہ حیرت انگیز اور بے مثال ہے۔ یہ ایک شاندار تحقیقی کارنامہ ہے۔
میں پوری رپورٹ کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد اس پر اپنا مکمل نقطہ نظر اور تجزیاتی رائے ضرور پیش کروں گا۔
۔۔۔۔
Tremendous work Mr Tanveer Ahmed.
Your research stands out as the largest, longest running and truly grassroots public opinion survey in the history of Azad Jammu & Kashmir. Spanning over five years, it encompasses the views of 10,000 citizens from all 32 tehsils of AJK, all of whom were eligible under the State Subject Rule of 1927.
This is truly remarkable work which has been carried out by you Mr. Tanveer Ahmed. Your investigative insight, scholarly rigour and analytical abilities are unquestionably exceptional. I extend my heartfelt congratulations to you for not only highlighting the intellectual and academic talent present within our region but also for producing a study of international standard. Through this work, you have demonstrated that Azad Jammu & Kashmir is not merely a disputed territory but a vibrant society filled with thoughtful, capable and highly skilled minds.
You completed this research under extremely challenging circumstances, overcoming numerous obstacles and dedicating immense time, energy and perseverance to see it through. You are unquestionably worthy of the highest praise and recognition for your effort and commitment.
I must acknowledge that I have not yet read the entire report but what I have seen and studied so far is truly outstanding and unparalleled; an extraordinary scholarly achievement.
Once I have reviewed the full report, I will present my comprehensive perspective and analytical reflections on this exceptional work. I thank you Mr Tanveer for this remarkable work.
..
My brief response in Roman Urdu:
Bahut shukrya huzoor. Umeed hay ke deegar humwatan bhi is audio clip ko sunengey aur report bhi parengey.
Ye sab kuch aik haqeeqi awaami hukumat ke qayaam ke liye ehem juz they aur is tehqeeq ke safar ne apna roadmap khud organically apney aap ko teh kiya.
....
3) 09/01/2026 - Barrister Asif Khan - Retired - Dadyaal (Mirpur) & Wolverhampton (UK)
Adabs to all, well said Danish Manzoor Sahib. Tanveer’s work is irreplaceable. He has spent 20 years trying to wake us all up but as always, we miss every opportunity.
Danish Manzoor's Response:
Absolutely Asif Sahib. There is no doubt that Tanveer's dedication and vision over the past 20 years is truly remarkable.
....
%20Impact%20Hub%20-%20Academia.edu%20-%20%5Bwww.academia.edu%5D.png)
No comments:
Post a Comment