🚨
ایکشـن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر نے واضح اعلان کیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے صرف نوے دن کی سخت ڈیڈ لائن مقرر ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کی نرمی یا تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
شوکت نواز میر نے خبردار کیا کہ اگر نوے دن کے اندر عوامی مطالبات پورے نہ کیے گئے تو پھر عوام کو روکنا ناممکن ہو جائے گا۔ قوم اب ایک بار پھر اپنے حقوق کے لیے متحد ہے اور بغیر پیچھے دیکھے جدوجہد جاری رکھے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی تبدیلی کا ایکشن کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ جو بھی وزیراعظم آتا ہے، وہ اختیارات سے محروم ایک رسمی چہرہ ہوتا ہے۔
شوکت نواز میر نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے مطابق تین ماہ کے اندر مطالبات کی تکمیل نہ ہونے کی صورت میں عوامی تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگی اور پھر اسے روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔
یہ بیان مظفرآباد سمیت آزاد کشمیر بھر میں جاری عوامی حقوق کی تحریک کے لیے ایک واضح اور سخت پیغام ہے کہ اب قوم اپنے حق سے کم کسی چیز پر راضی نہیں۔
۔۔۔۔
....
The following is a telling statement from Arif Urfi of Muzaffarabad, who also works as a correspondent for Geo News in Pakistan. On the subject of changing prime ministers in AJK, he makes the following statement (translated from Urdu to English):
For those who do not possess the democratic right to choose their own prime minister, to what extent would they have the authority to choose their democratic and political future in a plebiscite (referendum)?
The above screenshot can be accessed on Facebook here.
....

No comments:
Post a Comment