کیا ہمیں حقیقی عوامی حکومت چاہئیے کہ نہیں؟
سب کچھ موجود ہے۔ غلطی یہ ہوسکتی ہے کہ ہم یہ توقع کریں کہ سب کچھ کسی ایک فرد، یا کمیٹی، یا پارٹی، یا کسی اور تنظیمی شکل میں موجود ہے۔ جس جس چیز کی کمی ہے 'حقِ ملکیت' اور 'حقِ حکمرانی' کے حصول کے لیے(اے جے کے) آزاد جموں و کشمیر میں، وہ دراصل سب موجود ہے۔
طے یہ کرنا ہے کہ کس کے پاس کونسی صلاحیت ہے (گورننس اور اسٹیٹ کرافٹ ایک مشینری کا نام ہے اور ریاست کا ہر باشندہ ایک پرزے کی مانند ہے)، اور ان صلاحیتوں کے تناظر میں کس کس فرد نے کونسی کونسی ذمہ داری اٹھانی ہے۔
اصل سوال جو اس عوام نے ایک دوسرے سے پوچھ کر - ایک دستاویزی شکل میں عوامی مینڈیٹ ظاہر کرنا ہے دنیا کے سامنے - جس کی بنیاد پر ایک نیا نظام قائم ہوگا آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں، جو باقاعدہ طور پر ریاست کے ممکنہ متحدہ علاقہ جات (جے کے اے) سے رابطہ کرے، اور ان کے اندر انسانی حقوق کے مسائل کو حل کرنے میں فعال کردار ادا کرے
:
کیا آپ کو ایک حقیقی عوامی حکومت چاہیے کہ نہیں، جس کے سب فیصلے یہاں کی عوام کے تابع ہوں، نہ کہ کہیں اس دھرتی سے باہر؟
جان، مال اور عزت کا سوال۔
جو کام ہم نے اس دھرتی سے باہر سے حل کرنے کی کوشش کی پچھلے 78 سال سے، وہی کام - اب ہمیں آہستہ آہستہ سمجھ آنے لگی - کہ یہ سب کام کرنے کی ذمہ داری در اصل ہماری ہی تھی، کسی اور کی نہیں۔
1947
:سے اے جے کے میں ہمارے حقوق پر 4 چیک پوسٹس لگائے گئے
1)
مظفرآباد چیک پوسٹ
2)
دہلی-اسلام آباد (کراچی) چیک پوسٹ
3)
ریاستی باشندوں کی اپنی انا کی چیک پوسٹ
4)
بیجنگ-لندن-واشنگٹن (اقوامِ عالم) کی چیک پوسٹ
11
مئی 2026 تک ہم نے دو ناکے توڑ دیے ہیں، 2 رہتے ہیں۔
JKA PUBLIC AGENCY Note: U174311052026
....

No comments:
Post a Comment