جموں کشمیر کی دائمی تقسیم اور انضمام کا پرامن، اخلاقی، قانونی (تحقیقی) اور جمہوری (سیاسی)
تریاق و تدبیر
ہم 21 سال سے تحقیقی بنیادوں پر تیاری کر رہے ہیں، برطانوی پارلیمنٹ کے فلور پر ایک ڈیبیٹ کے لیے، جو جموں کشمیر اور متحدہ علاقہ جات کی عوام کے حقِ حکمرانی (کو غیر قانونی طور پر محروم کرنے) کے موضوع پر ہو۔
موجودہ برطانوی پارلیمنٹ کے بزرگوں نے 1947 میں اپنے ہی بنائے ہوئے قانون (قانونِ آزادیِ ہند) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے, انڈیا اور پاکستان کو ہر قسم کی سہولت فراہم کی: ریاست جموں کشمیر میں مداخلت (کرنے) کے لیے۔ یہ یاد رہے کہ اسی برطانوی پارلیمنٹ کے ذریعے انڈیا اور پاکستان وجود میں آئے تھے۔
اس عمل کا آغاز ایک ایسا (ڈیبیٹ) مکالمہ کی صورت میں ہو، جو اس دھرتی سے جنم لیتا ہو.... اور یہاں کے لوگوں کے ذریعے ناپ تول کر، اس کو تحریری شکل دے کر، ہر اس گاؤں (انتظامی موضع) کے عوام کے ذریعے، ان سب برطانوی پارلیمانی نمائندوں
(UK MPs)
سے رابطہ کیا جائے، جن کے بنیادی گاؤں اور آباؤ اجداد کا تعلق جموں کشمیر اور متحدہ علاقہ جات کی دھرتی سے ہو۔
ایک سٹیج پر جا کر ان تاریکِ وطن برطانوی پارلیمنٹ کے ممبران کو یہاں آزاد جموں و کشمیر میں آنے کی دعوت بھی دینی پڑے گی۔ لندن یہاں پر اثر انداز ہے لگ بھگ 3 صدیوں سے، اس کی ایک حصے کی ذمہ داری ہے یہاں، باقی ذمہ داری ہم پہلے بھی لیتے آئے ہیں (ذاتی طور پر 21 سال سے) اور آگے ہم سب ہم وطن بھی لیں گے۔ ہم مظفرآباد اور اسلام آباد کو عبور کر چکے ہیں، ابھی ہم اپنی انا کو سنبھالنے کی کوش کر رہے ہیں، جو مشق ہمیں تیار کرے گی دنیا کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے، بشمول اقوامِ متحدہ، اگر ایسا کچھ قابلِ عمل ہوا تو۔
JKA PUBLIC AGENCY Note: #U010723052026

No comments:
Post a Comment